سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 900

سیر روحانی — Page 220

۲۲۰ ایک سو روپیہ ہے ، مگر وہ ایک سو روپیہ دینے کی طاقت نہیں رکھتا تھا اور اس طرح اس کو خرید نے سے محروم رہتا تھا، کیونکہ وہاں قیمتیں مقرر ہوتی تھیں اور ان میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی تھی ، یہ نہیں کہ زید آیا تو اُسے کہدیا اس کی قیمت ہیں ہزار روپیہ ہے اور بکر آیا تو کہہ دیا پانچ ہزار روپیہ ہے اور خالد آیا تو کہہ دیا ایک ہزار روپیہ ہے، عمر و آ گیا تو اُسے وہی چیز سو روپیہ میں دے دی۔بدر دین آگیا تو وہی چیز اُسے آٹھ آنے میں دے دی ،شمس الدین پہنچا تو اُسے ایک پیسے میں دیدی اور علاؤ الدین آیا تو اُسے ایک کوڑی میں دے دی۔یہ طریقہ دُنیوی مینا بازاروں نظر نہیں آتا، مگر اس مینا بازار میں ہمیں یہی حساب نظر آتا ہے۔ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے مجھے جنت چاہئے ، اُس سے پوچھا جاتا ہے تیرے پاس کتنا مال ہے؟ وہ کہتا ہے ایک کروڑ روپیہ۔اُسے کہا جاتا ہے اچھا لا ؤ اپنی جان اور ایک کروڑ روپیہ اور لے لو جنت۔پھر ایک اور شخص آتا ہے اور کہتا ہے مجھے بھی جنت چاہئے ، اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پاس کتنا روپیہ ہے؟ وہ کہتا ہے ایک لاکھ روپیہ۔اُسے کہا جاتا ہے اچھا لا ؤ اپنی جان اور ایک لاکھ روپیہ اور لے لو جنت۔اُسی وقت ایک تیسر اشخص آجاتا ہے اور وہ کہتا ہے میرے پاس صرف سو روپیہ ہے مگر میں بھی جنت لینا چاہتا ہوں اُسے کہا جاتا ہے اچھا تم بھی اپنی جان اور سو روپیہ لاؤ اور جنت لے لو یہ پھر ایک اور شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے پاس سو روپیہ تو کیا ایک پیسہ بھی نہیں ہے سرف مٹھی جو کے دانے ہیں مگر خواہش میری بھی یہی ہے کہ مجھے جنت ملے۔اُسے کہا جاتا ہے کہ تمہارا سودا منظور لاؤ جان اور مٹھی بھر دانے اور لے لو جنت۔بلکہ اس بازار میں ہمیں ایسے ایسے بھی دکھائی دیئے کہ چشم حیرت کھلی کی کھلی رہ گئی۔ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رَسُولَ اللہ ! مجھ سے ایسا ایسا گناہ ہو گیا ہے، آپ نے فرمایا تو پھر اس کا کفارہ ادا کرو اور اتنے روزے رکھو۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! مجھ میں تو روزے رکھنے کی طاقت نہیں۔آپ نے فرمایا اچھا روزے رکھنے کی طاقت نہیں تو غلام آزاد کر دو۔وہ کہنے لگا يَا رَسُولَ اللهِ ! میں نے تو کبھی غلام دیکھے بھی نہیں اُن کو آزاد کرنے کے کیا معنی۔آپ نے فرمایا اچھا تو اتنے غریبوں کو کھانا کھلا دو، کہنے لگا يَارَسُولَ الله ! خود تو کبھی پیٹ بھر کر کھانا کھانا نصیب نہیں ہوا ، غریبوں کو کہاں سے کھلاؤں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ لاؤ دوٹو کرے کھجوروں کے اور وہ اُسے دیکر فرمایا کہ جاؤ اور غریبوں کو کھلا دو، وہ کہنے لگا يَا رَسُولَ اللهِ ! کیا سارے مدینہ میں مجھ سے بھی زیادہ کوئی غریب ہے؟ آپ ہنس پڑے اور فرمایا اچھا جاؤ ۲۴