سیر روحانی — Page 219
۲۱۹ وَاَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقَّافِى التَّوْرَةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآن وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِى بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۲۳ فرماتا ہے مینا بازار لگ گیا ، شاہی بازار آراستہ و پیراستہ ہو گیا تم سب آ جاؤ مگر خریدار ہو کر نہیں بلکہ اپنا سامان لے کر یہاں بیچنے کیلئے آ جاؤ ، بادشاہ خود خریدار بن کر آیا ہے اور اُس نے تمہارے مال یعنی اموال مادی اور جانیں دونوں تم سے خرید لیں۔وہ مال ادنی تھا یا اعلیٰ ، قیمتی تھا یا حقیر، تھوڑا تھا یا بہت، سب ہی خرید لیا اور قیمت تمہاری نیتوں کے مطابق ڈالی اور سب کو اس مال کے بدلہ جنت قیمت میں ادا کی۔گویا سارا مینا بازار اُن کو بخش دیا اور سب مال فروشوں کو حقیر مال کے بدلہ میں مالا مال کر دیا۔اتنی بڑی قیمت ہم اس لئے ادا کرتے ہیں کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں یادشمن کو مارتے ہیں یا خود مارے جاتے ہیں۔پس چونکہ وہ ہماری راہ میں اپنی تھوڑی پونجی سے بخل نہیں برتے، ہم بڑے مالدار ہو کر کیوں نخل سے کام لیں۔پھر ہم وعدہ وفا ہیں اور ان فروخت کنندوں سے یہ وعدہ ہمارا آج کا نہیں پرانا ہے۔یہ وعدہ ہم نے تورات میں بھی کیا تھا اور پھر انجیل میں بھی کیا تھا اور حال میں اُسی وعدے کو قرآن میں دُہرایا تھا اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ وعدہ وفا کرنے والا کون ہوسکتا ہے۔پس اے لوگو! آج جو سودا تم نے کیا ہے اس کے نتائج پر خوش ہو جاؤ اور یقیناً ایسا ہی سو دا بڑی کامیابی کہلا سکتا ہے گویا خریدار ایک ہے فروخت کرنے والے بہت سے ہیں مگر وہ سب دو ہی چیزیں فروخت کرتے ہیں اور اس کے بدلہ میں اُن کو وہ سب چیزیں ملتی ہیں جو مینا بازاروں میں ہوا کرتی تھیں اور اس طرح ایک ہی سو دے میں سب سو دے ہو جاتے ہیں۔دنیوی اور روحانی مینا بازار میں عظیم الشان فرق پھر میں نے جب اس بازار کو دیکھا تو میں نے کہا ایک اور فرق بھی اس مینا بازار اور دنیوی مینا بازاروں میں ہے اور وہ یہ کہ مینا بازاروں کی اشیاء کو خریدنے کی طاقت تو کسی انسان میں ہوتی تھی اور کسی میں نہیں ، مثلاً وہاں کہا جاتا تھا کہ یہ چیز دس ہزار روپیہ کی ہے اور خریدار کے دل میں اُس کو خریدنے کی خواہش بھی ہوتی تھی مگر وہ خرید نہیں سکتا تھا، کیونکہ اس کے پاس دس ہزار روپے نہیں ہوتے تھے۔اسی طرح کسی کو کوئی اور چیز پسند آئی اور وہ قیمت دریافت کرتا تو اُسے بتایا جاتا کہ