سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 696 of 900

سیر روحانی — Page 696

۶۹۶ رب سے اس کا کوئی اور فضل بھی مانگ لو۔اسی طرح فرماتا ہے۔فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلوةُ فَا نُتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ۔جب جمعہ کی نماز پڑھ لو تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ تمہارا سارا وقت حج اور نماز کے لئے نہیں ہوتا بلکہ تمہیں علم معیشت بھی سیکھنا چاہئے اور اپنے اوقات کو اس طرح تقسیم کرنا چاہئے کہ کچھ وقت نمازوں میں لگاؤ اور کچھ دنیا کے کاموں میں لگاؤ تاکہ تمہارے خاندان اور تمہارے ملک کی حالت اچھی ہو جائے۔علم الاقتصاد کی نہر پھر علم الاقتصاد کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے فرماتا ہے وَلَا تَجْعَلُ يَدَكَ مَغْلُو لَةً إِلى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطُهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْماً مَّحْسُورًا کہ تو اپنے ہاتھ کو بالکل روک نہ لے اور گردن کے ساتھ نہ باندھ لے اور نہ اتنا پھیلا کہ سارا مال ضائع ہو جائے۔گویا نہ تو بخل سے کام لے اور نہ اسراف سے کام لے۔کیونکہ کئی مواقع انسان پر ایسے بھی آتے ہیں جب اس کو پھر مال کی ضرورت پیش آجاتی ہے۔اگر کوئی شخص جوانی میں کمائی کرتا اور اُسے عیاشی میں اُڑا دیتا ہے تو بعد میں اگر وہ خود بیمار ہوتا ہے یا اس کے بیوی بچے بیمار ہوتے ہیں تو اُسے علاج کے لئے کوئی پیسہ نہیں ملتا۔پس فرمایا کہ اپنے اموال کو ہمیشہ اس طرح تقسیم کرنا چاہئے کہ کچھ بچاؤ اور کچھ خرچ کرو۔اِسی طرح فرماتا ہے يَسْتَلُونَكَ مَا ذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ۔۔۔لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں؟ حالانکہ خود حکم دیتا ہے کہ خرچ کرو۔مگر فرماتا ہے تم وہ خرچ کرو جو ضرورت سے زیادہ ہو۔جس کی تمہیں گل کو ضرورت پیش آنی ہے اُسے خرچ نہ کرو۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے وصیت کرنی چاہی اور کہا کہ میں اپنا سارا مال غریبوں کو دیتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سارا مال غریبوں کو دے دینا اچھا نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تیرے بچے تیرے بعد لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں کچھ ان کے لئے بھی رکھو اور کچھ