سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 658 of 900

سیر روحانی — Page 658

کیونکہ خواب میں بھی انسان ایسی چیزوں سے گھبراتا ہے جن سے اُسے گھبرانے کی عادت ہوتی ہے مگر جب انہوں نے پوچھا تو اُس نے جواب دیا کہ میں شیطان ہوں۔انہوں نے کہا تم شیطان ہو اور مجھے نماز کے لئے جگا رہے ہو؟ کہنے لگا ہاں! میں نماز کے لئے جگا رہا ہوں۔کل میں نے تمہاری نماز ضائع کرا دی تھی اور ایسے حالات پیدا کر دیے تھے کہ تم سوتے رہو اور آنکھ نہ کھلے مگر اس پر تم اتنا روئے اور تم نے اتنی تو بہ کی کہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کی نماز جو رہ گئی ہے اس کے بدلہ میں دس نیکیوں کا ثواب لکھ دو کیونکہ یہ بہت رویا ہے۔میں نے کہا میں تو ایک نیکی سے محروم کر رہا تھا اور اس کو دس نیکیاں مل گئیں آج اِسے جگا دو کہ نو (۹) نیکیاں تو بچیں یہ طریقہ ہے بدیوں کی جگہ نیکیاں لکھنے کا۔یعنی انسان کے دل میں جو ندامت اور تو بہ اور انابت پیدا ہوتی ہے اُس کا ثواب اتنا مقرر کر دیا جاتا ہے کہ وہ ان بدیوں کی جگہ کو ڈھانپ لیتا ہے اور اس کی جگہ نیکی بن جاتا ہے۔اسی طرح ایک دوسری مثال حدیث بدیوں کو نیکیوں میں بدلنے کی ایک اور مثال میں آتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ لوگوں سے معاملہ کر یگا تو ایک وقت ایک مجرم کو نکالا جائے گا۔اُس کے بڑے جُرم ہونگے مگر اس کے دل میں کوئی ایسی نیکی ہوگی کہ جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ کہے گا کہ میں نے اس کو ضرور بخشنا ہے۔چنانچہ وہ خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا وہ ڈر رہا ہوگا کہ مجھے سزا ملے گی اور اللہ تعالیٰ اپنے دل میں فیصلہ کر چکا ہوگا کہ اس کی فلاں نیکی کی وجہ سے میں نے اسے بخشا ہے مثلاً ممکن ہے اُس کے دل میں محبت رسول بڑی ہو یا اللہ تعالیٰ کی بڑی محبت ہو لیکن اعمال میں کمزور ہو یا غریبوں کی اُس نے بڑی خبر گیری کی ہو یا اور کوئی ایسی نیکی ہو جو اتنی نمایاں ہو گئی ہو کہ اللہ تعالیٰ سمجھتا ہو چاہے اس نے کتنے گناہ کئے ہوں میں نے اس کو بخش دینا ہے۔تو جب وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگا اللہ تعالیٰ کہے گا دیکھو میاں ! تم نے فلاں بدی کی۔وہ کہے گا ہاں حضور مجھ سے ایسا ہو گیا۔فرمائے گا اچھا فرشتو! اس کے بدلہ میں اس کے دس ثواب لکھ دو۔پھر پوچھے گا تم نے فلاں بدی کی تھی؟ وہ کہے گا جی حضور کی تھی۔فرمائے گا اچھا اس کے دس ثواب لکھ دو تو چونکہ اُس کے لئے بخشش کسی ایسی نیکی کی وجہ سے جو اپنی انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی مقدر تھی خدا تعالیٰ اُس کے گناہ گنانے شروع کر دیگا اور فرمائے گا کہ ان کے بدلہ میں نیکیاں لکھتے چلے جاؤ لیکن اس کے بڑے بڑے گناہ نہیں گنائے گا تا کہ وہ شرمندہ نہ ہو۔جب