سیر روحانی — Page 659
۶۵۹ ۱۸ اللہ تعالیٰ ختم کر بیٹھے گا تو وہ اپنے دل میں سوچے گا کہ میرے فلاں فلاں گناہ بھی موجود تھے اگر چھوٹے چھوٹے گناہوں کی دس دس نیکیاں ملی ہیں تو ان کی تو سو سو ملنی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ تو اس کی پردہ پوشی کے لئے ایسا کریگا لیکن جب وہ خاموش ہوگا تو بندہ کہے گا حضور ! آپ بھول ہی گئے میں نے فلاں گناہ بھی کیا تھا اور فلاں میں نے قتل کیا تھا اُس کو تو آپ نے بیان ہی نہیں کیا۔اسی طرح فلاں ڈا کہ آپ نے بیان نہیں کیا یہ تو چھوٹی چھوٹی باتیں بیان کی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہنس پڑے گا کہ دیکھو میرا بندہ میرے عفو پر اتنا دلیر ہو گیا ہے کہ اب یہ اپنے گناہ آپ گناتا ہے 1 تو جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ يُبَدِّلُ اللهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنت اس کے معنے اسی طرز کے ہیں کہ کوئی نہ کوئی نیکی اس کے دل میں ہوتی ہے اور وہ اتنے مقام پر پہنچ جاتی ہے کہ اُس نیکی کے مقام کی وجہ سے بدی کو نیکی کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔یہی اس کے معنے ہیں اور اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کی اعلیٰ تو بہ کی وجہ سے اُن کی دلداری کے لئے اور ان کے دلوں کو تسکین دینے کے لئے اُن کے گناہوں کو بھی نیکی کے ثواب میں بدل دیتا ہے۔روحانی انعامات کو کوئی شخص چھینے کی طاقت نہیں رکھتا پھر اس سے اوپر میں نے دیکھا کہ اس دفتر میں جن لوگوں کے لئے انعام مقرر ہوئے تھے انہیں کوئی چھین نہیں سکتا تھا۔برخلاف دُنیوی انعاموں کے کہ یہاں ایک بادشاہ دیتا ہے اور دوسرا چھین لیتا ہے بلکہ بعض دفعہ وہ بادشاہ آپ ہی چھین لیتا ہے۔ایک جرنیل کی معزولی دیکھ کر حضرت شبلی تاریخ میں قصہ آتا ہے کہ حضرت شبلی علیہ الرحمۃ جو حضرت جنید بغدادیؒ کے شاگرد تھے پہلے کا رونا اور اپنے گناہوں سے تو بہ کرنا وہ بڑے ظالم ہوتے تھے امیر آدمی تھے اور ایک صوبہ کے گورنر تھے انہوں نے اپنی گورنری کے زمانہ میں بڑے بڑے ظلم کئے تھے۔اُس زمانہ میں عباسی بادشاہ کے خلاف ایران میں کوئی بغاوت ہوئی کئی جرنیل بھجوائے گئے مگر انہوں نے شکست کھائی اور وہ دشمن کو مغلوب نہ کر سکے۔آخر بادشاہ نے ایک جرنیل کو چنا جو بہت دلیر تھا اور اُس کو کہا کہ تم جاؤ اور جا کر دشمن کو شکست دو یہ کام تم سے ہوگا۔وہ گیا اور چھ مہینے سال اُس نے بڑی بڑی مصیبتیں اُٹھا ئیں، تکلیفیں چھیلیں اور آخر ہمت کر کے اُس نے دشمن کو شکست دی اور وہ علاقہ بادشاہ کے لئے فتح کیا۔واپس آیا تو