سیر روحانی — Page 657
۶۵۷ کو دیکھ کر ، اُن کی دیانت کو دیکھ کر گو غلطیاں بھی انہوں نے کیں، گناہ بھی اُن سے سرزد ہوئے، کمزوریاں بھی اُن سے ہوئیں مگر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہے گا یہ میرا بندہ ہے ہم نے اس کی سزا معاف کر دی ہے اور اس کو معاف کر کے اس کے قرب کا فیصلہ کیا ہے اس لئے یہاں نیکی لکھ دو۔چنانچہ جب وہ کتاب پڑھے گا تو جو ادنی درجہ کا مؤمن ہوگا اس کے اعمالنامہ پر تو چیپیاں لگی ہوئی ہونگی اور اُس کے گناہ کو چھپایا ہوا ہوگا اور جو اعلیٰ درجہ کا مؤمن ہوگا اُس کے اعمالنامہ میں وہاں اُس کا کوئی کارنامہ لکھا ہوا ہو گا۔مثلاً وہی کام جو پہلا تھا اُس کو بڑھا کر اپنے انعام کے ساتھ اس میں شامل کیا ہوگا۔گویا اس کا اعمال نامہ ایک نئی شکل میں ہوگا۔اس کی مثال سمجھنے کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا جھوٹ کے ساتھ کام لیا جائے گا لیکن یہ جھوٹ نہیں ہوگا۔میں اس کی ایک مثال دے دیتا ہوں جس سے معلوم ہوگا کہ کس طرز پر کام لیا جائے گا۔حضرت معاویہ کی ایک نماز ضائع ہونے کا واقعہ آثار میں پُرانے زمانہ کا ایک واقعہ لکھا ہے آجکل تو یہ ہوتا ہے کہ کوئی بڑا آدمی مسجد میں نماز پڑھنے چلا جائے تو سارے شہر میں دھوم پڑ جاتی ہے کہ آج فلاں صاحب جمعہ کی نماز کے لئے آئے تھے لیکن پرانے زمانہ میں اس کے اُلٹ ہوتا تھا۔پرانے زمانہ میں امراء خود نماز پڑھاتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے تھے۔آپ کے بعد آپ کے خلفاء پڑھاتے تھے اور اس کے بعد جو دنیوی خلفاء آئے وہ بھی خود نماز پڑھاتے تھے۔حضرت معاویہؓ کے زمانہ میں خود حضرت معاویہ مسجد میں جا کر نماز پڑھاتے تھے۔ایک دن ایسا ہو ا کہ کوئی کام کرتے کرتے زیادہ دیر ہو گئی یا کچھ طبیعت خراب تھی نماز کے وقت آواز دینے والے نے آواز دی کہ نماز کھڑی ہوگئی ہے ( یہ پرانی سنت ہے کہ امام کو گھر پر جا کے مؤذن اطلاع دیتا ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے ) مگر اُن کی آنکھ نہ کھلی۔نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے یہ دیکھ کر کہ وقت جا رہا ہے نماز پڑھا دی۔جب اُن کی آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ نماز ہوچکی ہے۔اس پر اُن کو اتنا صدمہ ہوا کہ سارا دن روتے رہے اور استغفار کرتے رہے اور دعائیں کرتے رہے کہ یا اللہ! میں نے کیا خطا کی تھی اور کیا گناہ کیا تھا کہ اس کے نتیجہ میں آج نماز با جماعت رہ گئی اور میں مسلمانوں کی امامت نہیں کر اسکا۔دوسرے دن انہوں نے صبح کے قریب ایک کشفی نظارہ دیکھا کہ گویا شیطان آیا ہے اور وہ آ کر اُن کو ہلاتا ہے کہ میاں ! اُٹھ نماز پڑھ، میاں! اُٹھ نماز پڑھ۔وہ پہلے تو گھبرائے اور سمجھا کہ کوئی کمرہ کے اندر آ گیا ہے