سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 641 of 900

سیر روحانی — Page 641

۶۴۱ کرونگا۔غرض جو اس نے ڈائری لکھی تھی وہ ساری کی ساری اس میں ریکارڈ ہوتی ہے۔ریکارڈر کے استعمال میں کئی قسم کی دقتیں لیکن یہ ریکارڈر بہت شاذ استعمال ہوتا ہے کیونکہ ایک تو اس کے لئے جگہ تلاش کرنی پڑتی ہے اور اسے دوسروں سے چُھپانا پڑتا ہے۔پھر اس جگہ پر جانے کے لئے ملزم کو راضی کرنا پڑتا ہے۔جو چور واقف کار ہوتے ہیں وہ جانے سے انکار کر دیتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ہم تو ہوٹل کے کمرہ میں جا کر نہیں بیٹھتے جو بات کرنی ہے میدان میں کرو اور میدان میں ریکارڈر رکھا نہیں جا سکتا۔پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ جو زیادہ واقف ہوتے ہیں وہ ایسی مفلڈ وائس (MUFFLED VOICE) سے یعنی آواز کو اس طرح دبا کر بولتے ہیں کہ ریکارڈ ہی نہ ہو۔وہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ شخص کمرہ میں ریکارڈر لایا ہے اس لئے وہ آہستگی سے اس طرح باتیں کریں گے کہ ریکارڈ نہ ہوں اور پھر جیسا کہ ان کی تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ کبھی وہ ایسا کرتے ہیں کہ جس کمرہ میں وہ ملاقات مقرر کرتے ہیں اس میں وہ پہلے اپنا ساتھی بھیج دیتے ہیں کہ ذرا تلاشی لے آنا اس میں کہیں ریکارڈر تو نہیں رکھا ہوا۔اگر ریکارڈر ہوتا ہے تو عین موقع پر وہ بہانہ بنا کر کھسک جاتے ہیں کہہ دیا کہ اوہو! مجھے ضروری کام پیش آ گیا ہے پھر بات کریں گے اور ان کی ساری محنت برباد ہو جاتی ہے۔خدائی ڈکٹوفون پس اول تو ہر جگہ ریکارڈر رکھا نہیں جا سکتا پھر ریکارڈر رکھا بھی جائے تو اس سے بچنے کی صورت ہو جاتی ہے مگر یہاں فرماتا ہے کہ تمہارا ڈکٹوفون (DICTAPHONE) تو دنیا میں کئی لاکھ سال کے بعد کہیں ایجاد ہوگا اور ہمارا شروع سے ہی ڈکٹو فون موجود ہے۔چنانچہ جس وقت فرشتے ڈائری پیش کریں گے اللہ تعالیٰ مجرم سے کہے گا دیکھو! تم نے یہ یہ گناہ کیا ہے وہ کہے گا۔حضور! بالکل جھوٹ۔یہ ڈائری نویس تو بڑے کذاب ہوتے ہیں انہوں نے سارا جھوٹ لکھا ہے۔نہ میں نے کبھی چوری کی نہ میں نے کبھی جھوٹ بولا ، حضور ساری عمر سچ بولتے گزر گئی، ساری عمر لوگوں کا مال ان کو پہنچاتے ہوئے گزر گئی ، شرک کے قریب نہیں گئے ، میں تو لعنت ڈالتا ہوں سارے بتوں پر، میں نے کب شرک کیا یہ تو جھوٹ بولتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کہے گا اچھا لاؤ ریکارڈر۔ہم نے اپنے پاس ریکارڈر بھی کفار پر اتمام حجت رکھا ہوا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے حَتَّى إِذَا مَا جَاءُ وُهَا شَهِدَ۔