سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 640 of 900

سیر روحانی — Page 640

۶۴۰ ساتھ شکار ہو گیا۔یا تو اللہ تعالیٰ اِس عذر کو قبول کر لے گا اور اگر سزا دیگا تو باقی سارے لوگ یہی کہیں گے کہ اس بے چارے کو یونہی جھوٹی سزا صرف ڈائری نویسوں کے کہنے پر مل گئی ہے ورنہ یہ مجرم کوئی نہیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمارے ہاں کیا انتظام ہے۔مجرموں کے خلاف ان کے کانوں، آنکھوں اور جلد کی شہادت ہمارے ہاں یہ انتظام ہے کہ حَتَّى إِذَا مَا جَاءُ وُهَا شَهِدَ عَلَيْهِمُ سَمُعُهُمْ وَ اَبْصَارُهُمْ وَجُلُودُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ " دنیا میں آج سے پہلے ڈائری نویس کی حفاظت کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ڈائری نویس ڈائری لکھتا تھا اور مجرم جا کر کہہ دیتے تھے کہ جھوٹی ہے۔اب اس زمانہ میں ہزاروں سال یا جیالوجی موجودہ زمانہ میں ریکارڈر کی ایجاد (GEOLOGY) والوں کے بیان کے مطابق کروڑوں اربوں سال کے بعد وہ آلہ ایجاد ہوا ہے جس کو ریکارڈر کہتے ہیں۔طریق یہ ہے کہ اس کو کمرے میں چُھپا کر کہیں رکھ دیا جاتا ہے اور پولیس کا کوئی نمائندہ یا پولیس کا افسر بھیس بدلے ہوئے اُس مُجرم سے باتیں شروع کر دیتا ہے اور وہ اس ریکارڈر میں سب لکھی جاتی ہیں۔مثلاً اُس گفتگو میں وہ اُس کا ساتھی بن جاتا ہے اور کہتا ہے ارے میاں! تم چوری کرتے ہو تو مجھے بھی کچھ دو۔میں بھی غریب آدمی ہوں میرا بھی کوئی حصہ رکھو اور مجھے بھی کچھ دلاؤ۔اس پر وہ فخر کرنا شروع کرتا ہے کہ ہاں ہاں میں نے فلاں جگہ چوری کی اور اس میں یہ مال لیا۔فلاں جگہ چوری کی اور اس میں یہ مال لیا۔آؤ تم ہماری پارٹی میں شامل ہو جاؤ بڑی دولت آتی ہے اور خوب آسانی سے مال کمائے جاتے ہیں۔اب ہمارا ارادہ فلاں جگہ ڈا کہ مارنے کا ہے وہاں سے ہمیں اُمید ہے کہ دس لاکھ پونڈ ملے گا، تمہیں بھی دو چار سو پونڈ حصہ مل جائے گا۔اب یہ ساری باتیں وہاں ریکارڈ ہو جاتی ہیں اس کے بعد انہوں نے جا کر رپورٹ کی اور وہ پکڑے گئے۔جب عدالت میں پہنچے تو اُس نے حسب عادت یہ کہہ دیا کہ صاحب ! یہ جھوٹ ہے اس کے ساتھ میری دشمنی ہے۔یہ مجھ سے دس پونڈ رشوت مانگ رہا تھا میں نے نہیں دی اس لئے اس نے میرے خلاف یہ جھوٹی رپورٹ کر دی۔مجسٹریٹ نے کہا لاؤ ثبوت۔اُس نے کہا یہ ریکارڈر ہے۔چنانچہ ریکارڈر پیش کیا گیا اس میں مجرم کی آواز بند ہے، اُس کا لہجہ پہچانا جاتا ہے، اُس کی آواز پہچانی جاتی ہے، اُس میں یہ سارا ذکر آتا ہے کہ میں نے فلاں جگہ چوری کی، میں نے فلاں جگہ چوری کی ، اب فلاں جگہ چوری