سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 900

سیر روحانی — Page 427

۴۲۷ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس جگہ پھر ایک آدم کی پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے مگر جیسا کہ سیاق وسباق سے ظاہر ہے یہ بعثت عظمی کا دربارِ خاص میں اعلان آیات قطعی طور پر ثابت کرتی ہیں کہ یہاں وہ آدم مراد نہیں جس سے نسل بشر کا آغاز ہوا بلکہ اس جگہ آدم سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے چنانچہ دیکھو ان آیات کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے کہ قَلْ إِنَّمَا أَنَا مُندِ رُوَّمَا مِنْ إِلَهِ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ تو ان سے کہہ دے کہ میں خدا کی طرف سے ایک تنبیہہ کرنے والے کی حیثیت سے آیا ہوں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ واحد اور قہار ہے۔اس کے بعد فرماتا ہے وہ آسمان اور زمین کا رب ہے اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ان کا بھی رب ہے اور وہ بڑا غالب اور بخشنے والا ہے۔تو کہہ دے کہ یہ ایک عظیم الشان چیز ہے جس سے تم اعراض کر رہے ہو اور مجھے کیا خبر ہے کہ فرشتے آسمان پر کس کے تقرر کے بارہ میں بخشیں کر رہے تھے۔مجھے آسمان سے وحی آ گئی اور پتہ لگ گیا کہ میں خدا کی طرف سے نذیر ہوں۔دیکھو! جب خدا نے فرشتوں کو بلا یا اور ان سے کہا کہ میں ایک بہت بڑے انسان کو مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں جب میں اس کو پیدا کرلوں اور وہ اپنی جوانی کی عمر کو پہنچ جائے اور کلام الہی اس پر نازل ہو جائے تو تم فوراً اس کی مدد کرنے لگ جاؤ۔اب دیکھو یہاں کسی پہلے آدم کا یا پیدائش عام کا ذکر نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ان کی بعثت کا ذکر ہے اور پھر جہاں یہ ذکر ختم ہوتا ہے وہاں بھی ان باتوں کو بیان کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قُلْ مَا اسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ یعنی خدا نے کہا اور میں مقرر ہو گیا۔میں تم سے کسی اجر کا طالب نہیں۔اگر ابو البشر آدم کا یہاں ذکر ہوتا تو آدم کو کہنا چاہئے تھا کہ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے مگر بنایا آدم کو اور کہہ رہے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ان دونوں کا آپس میں جوڑ کیا ہوا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں آدم سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔در حقیقت قرآن کریم میں آدم کا جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ خالی ایک نام نہیں بلکہ آدم ایک عہدہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تفویض کیا جاتا ہے۔اس عہدہ کے لحاظ سے جو آدمی بھی اس پر مقرر ہو جائے وہ آدم کہلاتا ہے اور قرآن کریم کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عہدہ اس شخص کو دیا جاتا ہے جس سے قرآنی اصطلاح میں آدم سے مراد