سیر روحانی — Page 428
۴۲۸ کسی چیز کی ابتداء ہو۔جب کوئی ایسا سلسلہ قائم کیا جائے کہ جس نے قیامت تک جاری رہنا ہو اور اس سے متواتر تنوع پیدا ہونا ہو اور نئی نسلیں پیدا ہونی ہوں تو اُس کا نام آدم رکھا جاتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدم اول دور بشری کا آدم تھا جس سے نسل انسانی چلی اور کروڑوں کروڑ آدمی اس دنیا میں پھیل گئے۔بھی ایک عظیم الشان آدم ہیں اس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک آدم تھے جن سے ایک روحانی نسل کا آغاز ہوا۔جس طرح آدم کے پیدا ہونے کے بعد جن اور کھوت وغیرہ سب غائب ہو گئے اور انسانی نسل چل پڑی اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیدا ہونے کے بعد پہلے سارے نبیوں کی نسلیں ختم ہو گئیں اور وہ بے اولاد ہو گئے گویا بعینہ اسی طرح ہو ا جس طرح وہاں ہؤا تھا۔جس طرح وہاں صرف آدم کی نسل چلی اسی طرح یہاں صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی نسل چلی اور باقی نسلیں منقطع ہو گئیں۔ممکن ہے کوئی کہے کہ یہ کس طرح درست ہو سکتا ہے آدمی تو دنیا میں کروڑوں کروڑ پھرتے ہیں ، ان کی نسلیں منقطع کس طرح ہوئیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آدمی وہ ہوتے ہیں جو زندہ ہوں جن کے اندر روحانیت نہیں ، جن کے اندر خدا کا خوف نہیں ، جن کا خدا تعالیٰ سے تعلق نہیں ، جن کو خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں حالانکہ یہی باتیں انسان کی پیدائش کا مقصد ہیں وہ آدمی کہاں ہیں؟ اب آدمی وہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتا ہے کیونکہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد میں سے ہے ، باقی صرف جانوروں کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ خدا سے دُور ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی جو آدم کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام دیا گیا ہے وہ بھی اسی لئے ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی کو آدم قرار دینے میں حکمت طرف سے خائم الخلفاء قرار دیا گیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اب جو شخص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنا چاہے اس کے لئے آپ کی غلامی اختیار کرنا ضروری ہے۔جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص خدا تک پہنچنا چاہے تو وہ نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے کیونکہ اب وہی نسل سمجھی جاتی ہے باقیوں کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ ہیں ہی نہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد وہی محمد رسول اللہ