سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 900

سیر روحانی — Page 248

۲۴۸ داخل نہیں کیا جائے گا۔اصل بات یہ ہے کہ اگلے جہان کی زندگی جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہے مگر میں چونکہ مینا بازار کے مقابلہ کی اشیاء کا ذکر کر رہا ہوں اس لئے جسمانی حصہ پر زیادہ زور دینا پڑتا ہے ورنہ حقیقت یہی ہے کہ وہ روحانی دنیا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کوئی روح بغیر جسم کے نہیں ہوتی۔جیسے خواب میں تمہیں بیٹا ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو یہ خبر بعض دفعہ بیٹے کی شکل میں نہیں بلکہ آم کی شکل میں ہوتی ہے حالانکہ مراد بیٹا ہوتا ہے۔اسی طرح بظاہر جنت میں جو شراب ملے گی وہ شراب ہی ہوگی اور یہی نظر آئے گا کہ ایک پیالہ میں شراب پڑی ہوئی ہے، مگر اس کے پینے کے نتیجہ میں عقل تیز ہوگی اور بجائے بکواس کرنے کے انسان علم اور عرفان میں ترقی کرے گا ، بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ جو چیز دنیا میں تم درست نہیں کر سکے اُسے خدا درست کر دے گا نَاضِرہ کے دوسرے معنے رونق کے ہیں۔یعنی رنگ نکھرا ہوا ہو۔صحت اور تندرستی چہرہ سے ظاہر ہو۔دنیا میں تو کئی لوگ چہروں پر کریم ملے ہوئے ہوتے ہیں، مگر اندر سے بیماریوں نے انہیں کھوکھلا کیا ہوا ہوتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہے ہم نہ صرف ظاہری نقش و نگار درست کر دیں گے اور فیس پوڈر اور کریم کی ضرورت ہی نہیں رہے گی بلکہ پیدائش جدیدہ کے وقت ایسی رونق پیدا کر دیں گے جو اُن کے چہروں سے پھوٹ پھوٹ کر ظا ہر ہو رہی ہوگی۔اسی طرح فرماتا ہے۔وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ- ضَاحِكَةٌ چمکتے ہوئے چہرے مُسْتَبْشِرَةٌ رَةٌ 19 اُس دن جنت میں جانے والوں کے چہرے چمک رہے ہوں گے۔دنیا میں لوگ سفید تو ہوتے ہیں مگر مختلف قسم کے۔کہتے ہیں فلاں فلاں کا جسم سفید تو ہے مگر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے موم ہے اور ایک سفیدی ایسی ہوتی ہے جس میں موتی کی طرح ہے چمک ہوتی ہے فرماتا ہے جو سفیدی وہاں ہوگی وہ ایسی ہوگی کہ اُس کے اندر سے جھلک پیدا ہوگی جیسے موتیوں کی جھلک ہوتی ہے۔پھر فرماتا ہے۔ضَاحِكَة دنیا میں جو پوڈر ہوتے ہیں، ان کے لگانے سے دل خوش نہیں ہوتا بلکہ میں نے بعض کتابوں میں پڑھا ہے کہ جب عورتیں پوڈر لگا لیتی ہے ہیں تو پھر وہ زیادہ ہنستی بھی نہیں ، تا ایسا نہ ہو کہ شکن پڑ کر پوڈر گر جائے ، مگر فرمایا، ہمارا پوڈر ایسا ہو گا کہ بیشک جتنا چاہو ہنسو کوئی شگاف پوڈر میں پیدا نہ ہو گا۔میں نے سُنا ہے کہ بعض عورتوں نے ایک چھوٹا سا شیشہ اور پوڈر وغیرہ اپنے پاس رکھا ہوا ہوتا ہے اور جب کسی مجمع میں وہ محسوس کرتی