سیر روحانی — Page 243
۲۴۳ پھر اس لباس کے علاوہ ایک اور لباس کا بھی پتہ چلتا ہے چنانچہ فرماتا ہے وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ۲۲ تقویٰ کا لباس سب سے بہتر ہوتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا یہ تقویٰ کا لباس بھی اس مینا بازار میں ملتا ہے یا نہیں؟ اس کے لئے جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمیں قرآن کریم میں یہ لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَّانْهُمْ تَقُوهُم کہ جو لوگ ہدایت پاتے ہیں اللہ تعالیٰ اُن کو ہدایت میں اور زیادہ بڑھاتا ہے یہاں تک کہ اُن کو تقومی عطا کر دیتا ہے۔مطلب یہ کہ ہر ایک کو اُس کی ہدایت کے مطابق لباس ملے گا اور جس قدر کسی نے روحانیت میں ترقی کی ہوگی اُسی قدر اس کا لباس زیادہ اعلیٰ ہوگا۔زیب وزینت کے سامان (1) چھٹے میں نے دیکھا کہ مینا بازار میں زینت کے سامان یعنی آئینے اور کنگھیاں اور ربن اور پاؤڈر وغیرہ فروخت ہوتے تھے۔میں نے سوچا کہ یہ تو پُرانے زمانے کے مینا بازاروں کی بات ہے، آج کل تو انارکلی اور ڈبی بازار میں پوڈروں اور لپ سٹکوں اور رُوج وغیرہ کی وہ کثرت ہے کہ پرانے مینا بازار ان کے آگے ماند پڑ جاتے ہیں اور عورتوں کو ان کے بغیر چین ہی نہیں آتا ، گو آج کل کے مرد بھی کچھ کم نہیں اور وہ بھی اپنے بالوں میں مانگ نکال کر اور یو ڈی کلون اور پوڈر وغیرہ چھڑک کر ضرور خوش ہوتے ہیں مگر عورتیں تو اپنی زینت کے لئے ضروری سمجھتی ہیں کہ منہ پر کریم ملیں ، پھر اس پر پوڈر چھر کیں ، پھر لپ سٹک لگائیں پھر رُوج اور عطر وغیرہ استعمال کریں یہاں تک کہ اپنے بچوں کے منہ پر بھی وہ کئی قسم کی کریمیں اور چکنائیاں ملتی رہتی ہیں۔چنانچہ بعض بچوں کو جب پیار کیا جاتا ہے تو ہاتھ پر ضرور کچھ سُرخی ، کچھ چکنائی اور کچھ پوڈر لگ جاتا ہے اور جلد جلد غسلخانہ جانا پڑتا ہے۔پس میں نے کہا آؤ میں دیکھوں کہ آیا یہ چیزیں بھی وہاں ملتی ہیں یا نہیں؟ کیونکہ اگر یہ چیزیں وہاں نہ ہوئیں تو اول تو آج کل کے مرد بھی وہاں جانے سے انکار کر دیں گے ورنہ عورتیں تو ضرور اڑ کر بیٹھ جائیں گی اور کہیں گی بتاؤ جنت میں سرخی اور پوڈر ملے گا یا نہیں؟ اگر سرخی ، پوڈر اور کریمیں وغیرہ ملتی ہوں تو ہم جانے کے لئے تیار ہیں ورنہ نہیں۔زینت کے لئے سب سے پہلی چیز ذاتی خوبصورتی ہے مگر کئی عورتیں اس کو نظر انداز کر دیتی ہیں اور وہ خیال کرتی ہیں کہ شاید پوڈر مل کر وہ اچھی معلوم ہونے لگیں گی اور بیوقوفی سے زیادہ کی سے زیادہ پوڈر ملنے کو وہ حسن کی ضمانت سمجھتی ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب انہوں نے پوڈر ملا ہوا ہوتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے گویا انہوں نے آٹے کی بوری جھاڑی ہے۔انگریزوں کا رنگ چونکہ