سیر روحانی — Page 242
۲۴۲ لئے سید عبدالقادر صاحب جیلانی" کا یہ واقعہ بھی حل ہو گیا کہ میں نہیں کھاتا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا کہ اے عبد القادر ! تجھے میری ذات ہی کی قسم تو ضرور کھا اور میں نہیں پیتا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر! تجھے میری ذات ہی کی قسم تو ضرور پی۔اور میں نہیں پہنتا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا کہ اے عبدالقادر ! تجھے میری ذات ہی کی قسم تو ضرور پہن۔یہاں بھی فرماتا ہے کہ جنت میں اللہ تعالیٰ ہر مؤمن سے کہے گا کہ کھاؤ میں تمہارے گناہ بخشوں گا، میری شراب پیو کہ میں تم سے حُسنِ سلوک کروں گا اور میرے پھل کھاؤ کہ میں تم پر اپنی رحمتیں نازل کروں گا۔یہ الفاظ کتنی محبت پر دلالت کرتے ہیں اور کس طرح ان الفاظ سے اس شفقت کا اظہار ہوتا ہے جو مومن بندے کے ساتھ خدا تعالیٰ کرے گا۔اعلیٰ درجہ کے لباس (۵) پھر میں نے سوچا کہ دنیوی بازاروں میں تو لباس فروخت ہوا کرتے ہیں۔آیا ہمارے مینا بازار میں بھی لباس ملتے ہیں یا نہیں۔میں نے غور کیا تو اس بارہ میں بھی یہ تشریح موجود تھی وِلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ - وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ ال یعنی اس کے اندر مؤمنوں کو الیسا لباس دیا جائے گا جو ریشمی ہوگا وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ۔اور دنیا میں تو لوگ ریشمی لباس پہن کر متکبر ہو جاتے ہیں اور دوسرے سے کہتے ہیں کہ کیا تو میرا مقابلہ کر سکتا ہے؟ مگر وہاں ایسا نہیں ہوگا۔ہمارے ملک میں تو ایسی بُری عادت ہے کہ ذرا کسی کی تنخواہ زیادہ ہو جائے اور اس کا غریب بھائی اور رشتہ دار اس سے ملنے کیلئے آئے تو وہ گردن موڑ کر چلا جاتا ہے۔اب اُس کی گردن آپ ہی نہیں مڑتی بلکہ اسے جو تنخواہ مل رہی ہوتی ہے وہ اس کی گردن کو موڑ دیتی ہے مگر فرماتا ہے وہ حریر جو جنت میں ملے گا عجیب قسم کا ہوگا کہ وَهُدُوا إِلَى الطَّيِّبِ مِنَ الْقَوْلِ ادھر انسان وہ حریر پہنے گا اور اُدھر اس میں انکسار پیدا ہو جائے گا اور اس ریشم کے پہنتے ہی اس میں محبت اور پیار اور خلوص کے جذبات پیدا ہو جائیں گے وَهُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِيدِ اور دنیا میں تو لوگ ریشم پہن کر خوب اکٹر اکر کر مال روڈ پر چلتے ہیں۔عورتیں ان کو دیکھتی ہیں اور وہ عورتوں کی طرف دیکھتے ہیں اور اس طرح بداخلاقی کے مرتکب ہوتے ہیں مگر وہ حریر اس قسم کا ہو گا کہ اسے پہن کر مؤمن اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑ نے لگ جائیں گے اور اللہ میاں کے دربار میں جانے کی خواہش اُن کے دلوں میں زیادہ زور سے پیدا ہو جائے گی۔