سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 741 of 900

سیر روحانی — Page 741

۷۴۱ روحانی بچہ کے لئے بہت دُعائیں کرتا رہ اور کثرت سے اُس کی پیدائش کی خوشی میں قربانیاں کر تا کہ ایک وسیع لنگر جاری ہو جائے اور لاکھوں کروڑوں آدمی اُس سے فائدہ اُٹھائیں اور یقین رکھ کہ تیرا دشمن ہمیشہ نرینہ اولاد سے محروم رہے گا۔عربوں میں رواج تھا کہ وہ بچہ کی پیدائش پر بہت قربانیاں کرتے تھے۔لڑکی کو تو وہ زندہ دفن کر دیتے تھے اُس پر قربانیاں کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ، صرف نرینہ اولاد پر وہ قربانیاں کیا کرتے تھے۔پس فرمایا کہ تیرے ہاں ایک زمانہ میں ایک ایسا بیٹا پیدا ہو گا جو امتی نبی ہوگا اور نر ہو گا کیونکہ عورت نبی نہیں ہوتی۔اس کی خوشی میں تو قربانیاں کر یعنی دنیوی لنگر بھی جاری کر اور اُسکی تسبیح وتحمید بھی کر۔یعنی روحانی لنگر بھی جاری کر اور یقین رکھ کہ تیرا دشمن ہمیشہ اس دنیا میں بے اولا د ر ہے گا۔حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت پر مرد کو یہ فضیلت ہے کہ مردوں میں سے تو کامل مومن ہو سکتے ہیں جو دوسروں پر حکومت کرنے کے اہل ہوں لیکن عورتوں میں سے کوئی ایسی عورت نہیں ہو سکتی جو تمام مردوں پر حکومت کرنے کی قابلیت رکھتی ہو۔آجکل مساوات پر بڑا زور دیا جاتا ہے لیکن یہ دعویٰ کبھی کسی عیسائی پادری نے نہیں کیا کہ عورت تمام مردوں پر حکومت کر سکتی ہے۔مثلاً ملکہ کو ہی لے لو، اُس کو گھر میں خاوند کے ماتحت چلنا پڑتا ہے اور چاہے اُسے تخت پر ہی لا کر بٹھا ئیں گھر میں وہ خاوند کے ماتحت ہوتی ہے۔بے شک بعض عورتیں ایسی بھی ہوئی ہیں جنہوں نے شادی نہیں کی لیکن شادی نہ کرنے سے اُن کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈرتی تھیں کہ مرد آ گیا تو ہم پر حکومت کریگا مثلاً رضیہ سلطانہ نے جو غلام خاندان میں سے تھی ابتداء میں شادی نہیں کی مگر آخر وہ بے شادی کے نہ رہ سکی۔اسی طرح یورپ میں بعض حکومتیں ہیں جن کی شہزادیوں نے شادی نہیں کی مگر اُن کا شادی نہ کرنا صاف بتاتا ہے کہ وہ ڈرتی تھیں کہ اگر شادی کی تو مرد کے تابع رہنا پڑیگا۔ملکہ وکٹوریہ کی شادی البرٹ وکٹر سے ہوئی تھی۔اور میں نے ملکہ کی ہسٹری میں پڑھا کہ وہ روٹھ جاتا تھا تو وہ دروازے بند کر لیتا تھا اور ملکہ معظمہ ساری دنیا کی بادشاہ ہو کر اسکی منتیں کیا کرتی تھی کہ دروازہ کھول دو تم جو کچھ کہومیں وہی کرونگی۔إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْابْتَر کی پیشگوئی کا ظہور فرض یہ جو پیشگوئی تھی کہ محمد رسول اللہ کا دشمن ہمیشہ ابتر یعنی بے اولا در ہے گا اس کے پورا ہونے کا ثبوت اس سے ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم