سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 742 of 900

سیر روحانی — Page 742

۷۴۲ کا سب سے بڑا دشمن ابو جہل تھا اور ابو جہل کا بیٹا مکر مہ تھا۔ابوجہل کمبخت وہ تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی نبوت کیا تو ایک دفعہ آپ صفا پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اُس نے زور سے آپ کے منہ پر تھپڑ مارا۔امیر حمزہ جو آپ کے چا تھے اُس وقت باہر شکار کے لئے گئے ہوئے تھے جب وہ شکار سے واپس آئے تو اُن کے گھر کی ایک لونڈی جس نے پردہ کے پیچھے سے یہ تمام نظارہ دیکھا تھا بڑے غصہ سے اُن کو دیکھ کر کہنے لگی ، تجھ کو شرم نہیں آتی کہ تو تیر کمان لٹکائے فوجی بنا پھرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ بڑا بہادر ہے ، میں نے دیکھا کہ آج تیرے بھتیجا کے منہ پر ابو جہل نے بڑے زور سے تھپڑ مارا اور وہ سر ڈالے بیٹھا تھا۔خدا کی قسم ! اُس نے ابو جہل کو کوئی لفظ نہیں کہا تھا اور اُس کا کوئی قصور نہیں تھا وہ سر جھکائے چُپ کر کے بیٹھا تھا اور اپنے خیالات میں مگن تھا کہ وہ آیا اور اُس نے تھپڑ مارا اور پھر بعد میں بھی محمد نے کچھ نہیں کہا۔وہ دایہ تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتی تھی اُس نے کہا کہ محمد نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی سے چلا گیا اگر تم میں غیرت اور شرم ہے تو جاؤ اور جا کر بدلہ لو۔حضرت حمزہ یہ سنتے ہی سیدھے خانہ کعبہ میں گئے کیونکہ اُن لوگوں میں رواج تھا کہ شام کے وقت سارے رؤساء وہاں اکٹھے ہو جاتے تھے انہوں نے دیکھا کہ ابو جہل جو سردارانِ مکہ میں سے سمجھا جا تا تھا وہ پر بیٹھا ہوا ہے اور اُس کے ارد گرد مکہ کے تمام رؤساء بیٹھے ہوئے ہیں۔حضرت حمزہ جب وہاں پہنچے تو انہوں نے کمان اُٹھا کر زور سے اُس کے منہ پر ماری اور کہا کہ مجھے پتہ لگا ہے کہ تو نے آج محمد کے منہ پر تھپڑ مارا ہے اور اُس نے نہ پہلے کچھ کہا تھا اور نہ بعد میں کچھ کہا اب اگر تم میں کچھ ہمت ہے اور کوئی بہادری تم میں پائی جاتی ہے تو آ اور میرے ساتھ لڑ کر دکھا پھر تجھے پتہ لگے گا۔محمد جو کسی پر ہاتھ نہیں اُٹھاتا تیری ساری بہادری اُسی پر چلتی ہے جو مقابلہ کرنے والے اور سپاہی لوگ ہیں اُن سے تو لڑ کے دکھا پھر ہم مانیں گے کہ تو بہادر ہے۔اس پر سارے رؤساء کھڑے ہو گئے اور انہوں نے حضرت حمزہ کو پکڑ لیا اور مارنے لگے کہ اُس نے ہمارے لیڈر کو مارا ہے مگر اُس وقت خدا تعالیٰ نے ابو جہل کے دل پر ایسا رعب ڈالا کہ وہ اُن سے کہنے لگا۔نہیں نہیں ! اسے کچھ نہ کہو اصل میں آج مجھ سے ہی کچھ زیادتی ہو گئی تھی اور غلطی میری ہی تھی۔میں نے محمد پر بلا وجہ ظلم کر دیا، اُس نے مجھے کچھ نہیں کہا تھا نہ پہلے نہ بعد میں اس لئے حمزہ اپنے بھتیجے کی تائید میں جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے اسے مت مارو۔کلا چنانچہ وہ لوگ رُک گئے۔تو ابو جہل اپنی قوم کا سردار تھا اور ہمیشہ لوگوں سے کہتا رہتا تھا کہ محمد رسول اللہ اگر