سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 723 of 900

سیر روحانی — Page 723

۷۲۳ اور اتنی برکت ہے تو پھر اُن کے خدا کا رسول ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔۲۵ لیکن ادھر تو یہ حالت تھی کہ باپ اس بات کو حضرت ابوبکر کا قیصر وکسریٰ پر رعب ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ میرا بیٹا خلیفہ ہو سکتا ہے اور اُدھر یہ حالت تھی کہ ابو بکر آرام سے ایک کچی کوٹھڑی میں مدینہ میں بیٹھے ہوئے تھے لیکن قیصر اپنے محل میں اُن کے نام سے کانپ رہا تھا اور کسری اپنے محل میں ایران میں بیٹھا ہوا ہزار میل پر کانپ رہا تھا۔ابو بکرا بو قحافہ کا بیٹا جس کو مکہ میں بھی کوئی عظمت حاصل نہیں تھی وہ مدینہ کی کچی کوٹھڑی میں بیٹھا تھا لیکن قیصر قسطنطنیہ میں ایک بڑے پکے محل میں بیٹھا ہوا تھا اور کسری ایران میں ایک بڑے پکے محل میں بیٹھا ہوا تھا لیکن ابو بکر کا نام آتا تھا تو کانپ جاتے تھے۔یہی حال عمر کا تھا ، یہی حال عثمان رضی اللہ عنہ کا تھا ، یہی حال حضرت علی رضی اللہ عنہ کا تھا۔شاہ روم کا حضرت عمرؓ سے تبرک منگوانا حضرت عمر کا سایہ تو اتنا بڑھا کہ لکھا ہے ایک دفعہ روم کے بادشاہ کے سر میں سخت درد ہوئی کسی علاج سے فائدہ نہ ہوتا تھا۔رومی بادشاہ کو کسی نے کہا کہ آپ نے علاج تو بہت کر دیکھے اب ذرا عمر سے کچھ تبرک منگوائیے۔سُنا ہے اُس کی چیزوں میں بڑی برکت ہے۔شاید اس تبرک کی برکت سے آپ کی درد ہٹ جائے۔وہ تھا تو مخالف اور اُس کی فوجیں عمر کی فوجوں کے ساتھ لڑ رہی تھیں مگر مرتا کیا نہ کرتا۔سر درد کی برداشت نہ ہوئی آخر حضرت عمرؓ کے پاس سفیر بھیجا کہ اپنا کوئی تبرک بھیجیں۔حضرت عمرؓ نے بھی سمجھا کہ میرا کیا تبرک ہے یہ تو محمد رسول اللہ کا تبرک ہے اور خدا اس کو محمد رسول اللہ کی قوم سے لڑنے کی وجہ سے ذلیل کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے اپنی پُرانی ٹوپی جس پر دو دو انگل میل چڑھی ہوئی تھی وہ دے دی کہ جاؤ اور یہ ٹوپی اُس کو دے دو۔جو تبرک لینے آیا تھا وہ سفیر اسکو لے گیا۔با دشاہ کو بڑی بُری لگی اور اُس نے اُسے حقیر سمجھا۔وہ ریشمی ٹوپیاں اور سونے کے تاج پہنے والا بادشاہ بھلا حضرت عمر کی دود و انگل میل والی چکنی چپٹی ٹوپی سر پر رکھنے سے کتنا گھبراتا ہوگا۔اُس نے کہا پھینکو اس کو میں نہیں پہن سکتا۔مگر تھوڑی دیر بعد جو درد کا دورہ ہوا تو کہنے لگا لے آنا ٹوپی۔وہ ٹوپی رکھی تو سر کا درد دور ہو گیا اور خدا نے فضل کر دیا۔جب درد کو ایک دن آرام رہا تو پھر دل میں کچھ خیال آیا کہ میرے جیسا بادشاہ ایسی غلیظ ٹوپی پہنے۔کہنے لگا پھینکو پرے اس کمبخت کو۔انہوں نے پھر پھینک دی مگر پھر درد ہو گئی۔پھر اپنے درباریوں سے مشیں کرنے لگا