سیر روحانی — Page 724
۷۲۴ کہ خدا کے واسطے وہ ٹوپی لانا میں مرا جا رہا ہوں۔پھر سر پر ٹوپی رکھی تو آرام آ گیا۔بہر حال کی وہ ٹوپی لینے پر مجبور ہوا اور اس کو سر پر رکھتا رہا۔۲۶ اب دیکھو حضرت عمرؓ کا درخت جو محمد رسول اللہ نے لگایا تھا اُس کا کیسا لمبا سا یہ تھا۔عمر مدینہ میں بیٹھا ہوا تھا اور رُوم کے بادشاہ پر اُس کا سایہ تھا۔چنانچہ بادشاہ روم کو بھی اُسکے نیچے بیٹھنے سے آرام آیا۔عمر کیا تھے ! محمد رسول اللہ کے باغ کا ایک درخت ہی تھے۔اور روم کا بادشاہ کیا تھا ؟ مسیح اور موٹی کے باغ کا ایک درخت تھا۔عام درختوں کے اندر تو یہ بات پائی جاتی ہے کہ بڑے درختوں کے نیچے اگر اُن کو لگا یا جائے تو وہ سُوکھنے لگ جاتے ہیں مگر محمد رسول اللہ کے باغ کا درخت عمر ایسا با برکت تھا کہ مسیح اور موسی کے باغ کا درخت جب اس کے نیچے لگا یا گیا یعنی روم کے بادشاہ کے سر پر اُس کی ٹوپی رکھی گئی تو بجائے سُوکھنے کے سرسبز و شاداب ہونے لگ گیا۔وہ برکتوں والا زمانہ تو گزر گیا مگر پھر بھی محمد کی باغ میں ایسے ایسے درخت لگے کہ دنیا کی آنکھیں خیر ہ ہو گئیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے باغ معاویہ بن یزید کا ایک ایمان افروز واقعہ میں ایک گندہ پودہ پیدا ہوا جس کا نام یزید ہے۔یزید یزید ہی تھا مگر محمد رسول اللہ کے باغ کا پودہ کہلاتا تھا۔اُس کے گھر میں ایک بیٹا پیدا ہوا تو اُس نے اُس کا نام بھی اپنے باپ کے نام پر معاویہ رکھا۔مگر ایسے گندے باپ کا بیٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کی وجہ سے اور اُن کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے ایسا پھلا پھولا کہ اس کے واقعہ کو پڑھ کر لطف محسوس ہوتا ہے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ یزید کی موت کا وقت آیا تو اُس نے اپنے بیٹے معاویہ کو خلیفہ مقرر کیا۔لوگوں سے بیعت لینے کے بعد اپنے گھر چلا گیا اور چالیس دن تک باہر نہیں نکلا۔پھر ایک دن وہ باہر آیا اور منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے کہنے لگا کہ میں نے تم سے بیعت تو لے لی ہے مگر اس لئے نہیں کہ میں اپنے آپ کو تم سے بیعت کا زیادہ اہل سمجھتا ہوں بلکہ اس لئے کہ میں چاہتا تھا کہ تم میں تفرقہ پیدا نہ ہو اور اُس وقت سے لیکر اب تک میں گھر میں یہی سوچتا رہا کہ اگر تم میں کوئی شخص لوگوں سے بیعت لینے کا اہل ہو تو میں یہ امارت اُس کے سپر د کر دوں اور خود بری الذمہ ہو جاؤں۔مگر باوجود بہت غور کرنے کے مجھے تم میں کوئی ایسا آدمی نظر نہیں آیا اس لئے اے لوگو! یہ اچھی طرح سُن لو کہ میں اس منصب کے اہل نہیں ہوں اور یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میرا باپ