سیر روحانی — Page 692
۶۹۲ فرمائیے حضرت ابو بکر اور عمر شیعہ تھے کہ سُنی۔میں نے کہا اُن کے شیعہ سنی ہونے کا کیا سوال ہے شیعیت اور سنیت تو بعد میں پیدا ہوئی ہیں۔اصل بحث تو یہ ہے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ خلیفہ تھے یا نہیں؟ کیونکہ اسی کی وجہ سے شیعیت اور سُنیت پیدا ہوئی ہیں۔کہنے لگا اچھا! مجھے یہ خیال نہیں آیا تھا تو وہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کو بھی جو پہلے گزر چکے تھے شیعہ سنی بنانا چاہتا تھا۔علم نباتات کی نہر پھر علم نباتات کی طرف بھی قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے۔فرماتا ہے وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ - ٣٠ یعنی زمین میں جسقدر نباتات ہیں اُن میں جوڑا جوڑا ہوتا ہے۔کچھ نر ہوتے ہیں اور کچھ مادہ ہوتے ہیں۔جب نر اور مادہ کو ٹھیک طرح ملایا جائے تو فصل بڑی اعلیٰ ہوتی ہے اسی لئے ماہرین زراعت نے کہا ہے کہ باغوں میں شہد کی مکھیاں رکھنی چاہیں وہ نر درخت پر بیٹھ کر اور اُس نر درخت کا نطفہ لے کر مادہ درخت پر رکھ دیتی ہیں تو پھل زیادہ لگتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک واقعہ عرب لوگ ہمیشہ ز اور مادہ درختوں کو آپس میں ملایا کرتے تھے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزر رہے تھے کہ آپ نے دیکھا کہ کچھ لوگ کھجوروں کے نروں کو کھجور کے مادہ سے ملا رہے ہیں۔آپ کو اس کا علم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نباتات کو جوڑا جوڑا بنایا ہے۔یہ بھی قرآن کریم کی سچائی کا ایک ثبوت ہے۔اگر آپ کے علم میں یہ بات ہوتی تو مخالف کہتے کہ قرآن کریم میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے خود یہ بات لکھ دی ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا کوئی علم نہیں تھا۔جب آپ نے انہیں نر اور مادہ کو آپس میں ملاتے دیکھا تو فرمایا کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا يَارَسُولَ اللہ ! ہم نر کو مادہ پر ڈالتے ہیں تا کہ فصل اچھی رہے۔آپ نے فرمایا یہ لغو بات ہے جو پھل پیدا ہونا ہے اُس نے تو پیدا ہونا ہی ہے اس سے کیا بنتا ہے؟ انہوں نے چھوڑ دیا۔اگلے سال وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے يَا رَسُولَ اللہ! ہماری تو فصل ماری گئی ہے اب کے کھجور اچھی نہیں ہوئی۔آپ نے فرمایا کیوں ؟ انہوں نے کہا آپ نے جو منع فرمایا تھا کہ نر کا مادہ مادینہ کھجور پر نہ ڈالو۔آپ نے فرمایا میں تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں یہ علم تم جانتے ہو میں نہیں جانتا تمہیں میری بات نہیں ماننی چاہئے تھی اسے تو دیکھو خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارہ میں کوئی ذاتی علم نہیں تھا مگر قرآن کریم فرماتا ہے۔وَمِنْ كُلِّ شَيْ ءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُون۔