سیر روحانی — Page 678
۶۷۸ سے کھیتوں کو بھی پانی ملتا ہے پینے کے لئے بھی پانی مہیا ہوتا ہے اور پھر پانی کا ذخیرہ بھی جمع رہتا ہے اور یہی فوائد روحانی دنیا میں دینی علوم اور معارف سے حاصل ہو تے ہیں اسی وجہ سے قرآن کریم میں دینی علوم اور معارف کا نام بھی نہریں رکھا گیا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورہ بقرہ میں فرماتا ہے ثُمَّ قَسَتْ قُلُو بُكُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهرُ یعنی مخالفین اسلام کے دل پتھر بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں کیونکہ پتھروں میں سے تو بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اُن کے نیچے سے پانی بھی نکل آتا ہے لیکن ان کے دلوں میں سے کوئی ایمان کا قطرہ نہیں نکلتا۔اس آیت کے یہ معنے نہیں کہ پانی ان پتھروں میں سے نکلتا ہے بلکہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اُن کے پیچھے پانی ہوتا ہے جو اُن پتھروں کو پھاڑ دیتا ہے اور پھر اُن میں سے نہر بہنے لگ جاتی ہے مگر یہ کفارا ایسے سخت دل ہیں کہ ان کے دلوں کے پیچھے جو روحانی پانی ہے وہ اُن میں سے بہنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا۔جسمانی اور روحانی علوم بھی نہروں سے مشابہت رکھتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دلوں کے پیچھے بھی پانی ہوتا ہے اور سخت دل انسان بھی بعض دفعہ اُس کا مقابلہ نہ کر کے اُس کے آگے جھک جاتے ہیں اور اُن میں سے پانی نکلنے لگ جاتا ہے۔پس پانی کے معنے گویا روحانی اور جسمانی علوم کے ہیں۔ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ اسی حقیقت کا اِن الفاظ میں ذکر فرماتا ہے کہ إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيوةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ اَنْزَلْنَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالانْعَامُ، حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَدِرُونَ عَلَيْهَا أَتْهَا أَمُرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَهَا حَصِيدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ یعنی دنیا کی زندگی کی مثال ایک پانی کی طرح ہے کہ ہم آسمان سے اُتارتے ہیں پھر اُس سے زمین کا سبزہ مل جاتا ہے جس کو لوگ بھی کھاتے ہیں اور جانور بھی کھاتے ہیں اور زمین بڑی سرسبز ہو جاتی ہے اور لوگ سمجھتے ہیں کہ اب وہ اُس کھیتی پر قبضہ کر لیں گے مگر اچانک دن کو یا رات کو خدا تعالیٰ کا کوئی عذاب نازل ہو جاتا ہے اور وہ اِس طرح تباہ ہو جاتی ہے کہ ط