سیر روحانی — Page 679
۶۷۹ گویا گل یہاں کچھ تھا ہی نہیں اور جو لوگ غور و فکر سے کام لیتے ہیں اُن کے لئے ہم اسی طرح اپنی آیات کھول کر بیان کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ دینی یا دنیوی علوم تو پانی کی طرح صاف ہوتے ہیں لیکن لوگوں کے وہ بد خیالات جو زمین کی نباتات کی طرح ہوتے ہیں اور جو ان کے دماغوں میں اُٹھتے رہتے ہیں جو دین یا دنیا کو تباہ کر دیتے ہیں اور وہ علوم بجائے فائدہ بخش ہونے کے لوگوں کے لئے حسرت کا موجب ہو جاتے ہیں۔اِسی طرح فرماتا ہے هُوَ الَّذِى خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَّ كَانَ عَرُ شُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً۔وہ خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ اوقات میں پیدا کیا ہے اور خدا تعالیٰ کا عرش یعنی اُس کی حکومت اس سے پہلے پانی پر تھی۔اگر اس آیت کے دُنیوی معنے لوتو اس کے معنے وہی ہیں جو وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيّ " میں بیان کئے گئے ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت خالقیت پانی کے ذریعہ سے ظاہر کی ہے اور اگر دینی معنے لوتو ماء کے معنے وحی الہی کے ہیں اور اس آیت کا یہ مفہوم ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان پر حکومت اپنی وحی کے ذریعہ سے ظاہر کی ہے لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً تا کہ وہ تمہاری آزمائش کرے اور یہ ظاہر کر دے کہ تم میں سے کون زیادہ اچھے کام کرتا ہے۔پس پانی سے مراد علوم ہوتے ہیں دینی اور دنیوی بھی۔رسول کریم صلی اللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زبردست بارش سے مشابہت علیہ وسلم بھی اپنے متعلق فرماتے ہیں کہ مَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللهُ بهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ الْغَيْثِ الْكَثِيرِ أَصَابَ أَرْضاً فَكَانَ مِنْهَا نَقِيَّةً قَبِلَتِ الْمَاءَ فَا نُبَتَتِ الْكَلَا وَالْعُشْبَ الْكَثِيرِ وَ كَانَتْ مِنْهَا أَجَادِبَ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِ بُوا وَسَقَوا۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مجھے ہدایت اور علم دیکر بھیجا ہے اُس کی مثال ایک بادل کی طرح ہے جس سے بڑی بارش ہوتی ہے مگر جب وہ کسی زمین پر پڑتی ہے تو کچھ تو اچھی زمین ہوتی ہے وہ پانی کو قبول کر لیتی ہے اور بڑا سبزہ نکالتی ہے اور کچھ ایسی زمینیں ہوتی ہیں کہ وہ پانی تو لے لیتی ہیں لیکن ان کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اس پانی کو جمع رکھتی ہیں۔چنانچہ لوگ اس ذخیرہ سے پانی پیتے اور آگے کھیتوں کو بھی پانی دیتے ہیں۔