سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 677 of 900

سیر روحانی — Page 677

۶۷۷ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ (۹) تقریر فرموده مورخه ۲۸ دسمبر ۱۹۵۵ء بر موقع جلسہ سالانہ ربوہ ) عالم روحانی کی نہریں تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- آج میں دوستوں کے سامنے اُسی مضمون کی ایک کڑی بیان کرنا چاہتا ہوں جو ۱۹۳۸ء سے جاری ہے اور جس کا تعلق میرے حیدر آباد اور دہلی کے سفر کے ساتھ ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ اس سفر میں میں نے سولہ چیزیں دیکھی تھیں جن کا میری طبیعت پر گہرا اثر ہوا۔آج میں انہی میں سے ایک اور چیز کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔میں نے اس سفر میں جو نظارے دیکھے اور جن عجائبات نے مجھے اپنی طرف متوجہ کیا اُن میں بڑے بڑے بادشاہوں کے تیار کردہ قلعوں اور مسجدوں اور میناروں وغیرہ کے علا وہ کچھ نہریں بھی تھیں جو ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں پانی پہنچاتی تھیں اور جو پیاسی فصلوں اور درختوں کے لئے ایک نئی زندگی کا موجب ہوتی تھیں۔بیاسی دنیا کی سیرابی کا انتظام میں نے ان نہروں کو دیکھا اور غور کیا کہ کیا ان دُنیوی نہروں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ نے عالم روحانی میں بھی پیاسی دنیا کی سیرابی کے لئے کوئی نہریں بنائی ہیں یا نہیں اور اگر بنائی ہیں تو وہ دنیا کو کس طرح سیراب کر رہی ہیں۔دنیوی نہروں کے فوائد اس نقطہ نگاہ کے مطابق جب میں نے سوچا تو میرے دل میں سوال پیدا ہوا کہ نہروں کا کیا کام ہوتا ہے؟ اور پھر میرے دل نے خود ہی اس سوال کا یہ جواب دیا کہ نہروں کا کام لوگوں کے لئے پانی مہیا کرنا ہوتا ہے جس