سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 675 of 900

سیر روحانی — Page 675

۶۷۵ میرے پیچھے ایک یہودی کا فر چھپا ہوا ہے اس کو مار کے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی تھی اُس وقت کسی یہودی کا فلسطین میں نام ونشان بھی نہیں تھا۔پس اس حدیث سے صاف پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیشگوئی فرماتے ہیں کہ ایک زمانہ میں یہودی اس ملک پر قابض ہو نگے مگر پھر خدا مسلمانوں کو غلبہ دیگا اور اسلامی لشکر اس ملک میں داخل ہونگے اور یہودیوں کو چن چن کر چٹانوں کے پیچھے ماریں گے۔فلسطین مستقل طور پر خدا تعالیٰ کے پی عارضی میں اس لئے کہتا ہوں کہ آئی الأرض پس يَرثُهَا عِبَادِيَ الصَّلِحُونَ کا حکم موجود ہے۔مستقل طور پر تو فلسطین عِبَادِيَ الصَّلِحُونَ کے ہاتھ صالح بندوں کے ہاتھ میں رہے گا میں رہنی ہے۔سو خدا تعالیٰ کے عِبَادِيَ الصَّلِحُونَ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لوگ لازماً اس ملک میں جائیں گے نہ امریکہ کے ایٹم بم کچھ کر سکتے ہیں ، نہ ایچ ہم کچھ کر سکتے ہیں، نہ روس کی مدد کچھ کر سکتی ہے۔یہ خدا کی تقدیر ہے یہ تو ہو کر رہنی ہے چاہے دنیا کتنا زور لگا لے۔اس جگہ پر ایک اعتراض کیا وَعْدُ الآخِرَةِ کے متعلق ایک اعتراض کا جواب جا سکتا ہے اور وہ اعتراض یہ ہے کہ یہاں وَعْدُ الْآخِرَةِ فرمایا ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ وَعْدُ الْآخِرَة سے مراد آخری زمانہ ہے مگر سورۃ بنی اسرائیل کی وہ پہلی آیتیں جو تم نے پڑھی تھیں وہاں بھی تو ایک وَعُدُ الآخِرَةِ کا ذکر ہے جس میں رومیوں کے حملہ کا ذکر ہے تو کیوں نہ یہ سمجھا جائے کہ یہ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا رومیوں کے حملہ کے متعلق ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وہ وَعُدُ الآخِرَةِ نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اس صورت میں وَعْدُ الْآخِرَةِ کو عذاب کا قائم مقام قرار دیا ہے اور اس صورت میں وَعْدُ الْآخِرَةِ کو انعام کا قائم مقام قرار دیا ہے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ عذاب کی پیشگوئی کو انعام سمجھ لیا جائے۔اُس جگہ تو فرمایا ہے کہ جب آخرت کا وہ وعدہ آئیگا تو تم کو تباہ کر دیا جائے گا اور اس آیت میں یہ ذکر ہے کہ جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو پھر تم کو اس ملک میں لا کر بسا دیا جائے گا۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ وَعُدُ الآخِرَةِ اور ہے اور وہ وَعُدُ الآخِرَةِ اور ہے۔وہاں وَعْدُ الآخِرَةِ سے مراد ہے موسوی سلسلہ کی پیشگوئی کی آخری کڑی اور یہاں وَعُدُ الآخِرَةِ سے مراد ہے آخری زمانہ یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی پیشگوئی۔پس یہ الفاظ گو