سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 674 of 900

سیر روحانی — Page 674

۶۷۴ میں بھی پیشگوئیاں تھیں کہ عکہ اُن کے پاس ہوگا اور تورات میں بھی پیشگوئیاں تھیں مگر اب عکہ میں بہائیوں کا نام ونشان بھی نہیں ہے ، پھر اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں۔اور کئی بیوقوف ہیں جو ان کے اعتراضوں سے مرعوب ہو جاتے ہیں مگر اس کا موقع کسی دوسرے لیکچر میں آئیگا ، آج میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔غرض بابلیوں فلسطین پر یہود کا عارضی قبضہ اسلام کی صداقت کا ثبوت ہے کے آنے اور رومیوں کے عارضی طور پر وہاں آ جانے سے جس کا عرصہ ایک دفعہ ایک سو سال اور دوسری دفعہ قریباً تین سو سال کا تھا اگر اس کو موسیٰ اور داؤد کے پیغام کے منسوخ ہونے کی علامت قرار نہیں دیا گیا تو اس وقت یہود کا عارضی طور پر قبضہ جس پر صرف پانچ سال گزرے ہیں اسلام کے منسوخ ہونے کی علامت کس طرح قرار دیا جا سکتا ہے بلکہ یہ تو اس کے صادق ہونے کی علامت ہے۔کیونکہ جب اس نے خود یہ پیشگوئی کی ہوئی تھی کہ ایک دفعہ مسلمانوں کو نکالا جائے گا اور یہودی واپس آئیں گے تو یہودیوں کا واپس آنا اسلام کے منسوخ ہونے کی علامت نہیں اسلام کے سچا ہونے کی علامت ہے۔کیونکہ جو کچھ قرآن نے کہا تھا وہ پورا ہو گیا۔باقی رہا یہ کہ پھر عِبَادِيَ الصَّلِحُونَ کے ہاتھ میں کس طرح رہا؟ یہود فلسطین سے نکالے جائیں گے سواس کا جواب یہ ہے کہ عارضی طور پر قبضہ پہلے بھی دو دفعہ نکل چکا ہے اور عارضی طور پر اب بھی نکلا ہے۔اور جب ہم کہتے ہیں عارضی طور پر تو لازماً اسکے معنے یہ ہیں کہ پھر مسلمان فلسطین میں جائیں گے اور بادشاہ ہونگے۔لازماً اس کے یہ معنے ہیں کہ پھر یہودی وہاں سے نکالے جائیں گے اور لازماً اس کے یہ معنے ہیں کہ یہ سارا نظام جس کو یو۔این۔او کی مدد سے اور امریکہ کی مدد سے قائم کیا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو توفیق دے گا کہ وہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجادیں اور پھر اس جگہ پر لا کر مسلمانوں کو بسائیں۔احادیث میں یہود کی تباہی کی پیشگوئی دیکھو حدیثوں میں بھی یہ پیشگوئی آتی ہے، حدیثوں میں یہ ذکر ہے کہ فلسطین کے علاقہ میں اسلامی لشکر آئیگا اور یہودی اس سے بھاگ کر پتھروں کے پیچھے چھپ جائیں گے۔اور جب ایک مسلمان سپاہی پتھر کے پاس سے گزرے گا تو وہ پتھر کہے گا اے مسلمان خدا کے سپاہی!