سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 669 of 900

سیر روحانی — Page 669

۶۶۹ مال دینگے اور بیٹے دینگے اور تمہیں بہت زیادہ تعداد میں بڑھا دینگے اور طاقتور بنا دینگے اور پھر یہ جائداد تمہارے پاس واپس آ جائے گی۔فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ لِيَسُوءُ ا وُجُوهَكُمْ وَ لِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَ لِيُتَبّرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِیرًا لیکن پھر ایک وقت کے بعد ہم دوبارہ یہ جاگیر تم سے چھین لیں گے۔جب وہ دوسرا وعدہ آئے گا یعنی و عدالآخرۃ آئے گا لِيَسُوا وُجُوهَكُمْ تا کہ وہ لوگ جن کو عارضی طور پر ہم یہ جاگیر دینے والے ہیں وہ تمہارے منہ خوب کالے کریں وَلِيَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ پہلی دفعہ بھی جب ہم نے جا گیر تم سے چھینی تھی تو اُس وقت بھی تمہاری عبادت گاہ کو اور تمہارے خانہ کعبہ کو دشمن نے برباد کیا تھا اس دفعہ بھی یہ دشمن گھسے گا اور تمہارے خانہ کعبہ کو برباد کریگا۔وَ لِيَتَبِرُوا مَا عَلَوْا تَتْبِيرًا اور جس جس علاقہ میں جائے گا اُسے تباہ کرتا چلا جائے گا گویا دوبارہ ہم پھر یہ جا گیر لے لیں گے۔عَسَى رَبِّكُمُ اَنْ يَّرُ حَمَكُم مگر پھر ہم یہ فیصلہ کریں گے کہ یہ جاگیر واپس آئے۔یہاں یہ نہیں فرمایا کہ تمہاری طرف آئے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ رحم کرے گا یعنی اس بد نامی کو دور کر دیگا ، یہ نہیں کہ پھر وہ یہودیوں کے ہاتھ میں آجائے۔وَإِنْ عُذْتُمْ عُدْنَا اور اگر تم اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو پھر ہم یہ جائداد تم سے چھین لینگے اور یہ پھر ایک اور قوم کے پاس جائے گی وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِينَ حَصِيرًا اور جہنم کو ہم تمہارے لئے قید خانہ بنا دیں گے یعنی پھر تم اس ملک میں واپس نہیں آؤ گے۔اب دیکھو اس جگہ اتنے وعدے کئے گئے ہیں۔بابلیوں کا فلسطین پر قبضہ اول میرم اوّل یہ جاگیر کچھ عرصہ تمہارے پاس رہے گی مگر اس کے بعد بابلیوں کی معرفت یہ جاگیر چھینی جائے گی۔چنانچہ بابلی فوجیں آئیں اور انہوں نے عبادت گاہیں بھی تباہ کیں، شہر بھی تباہ کئے اور ملک پر قبضہ کیا اور قریباً ایک سو سال حکومت کی۔اس کے بعد وہ حکومت بدل گئی اور پھر یہودی اپنے ملک پر قابض ہو گئے۔پھر مسیح کے بعد رومی لوگوں نے پھر اس ملک پر حملہ کیا اور رومیوں کا فلسطین پر قبضہ اس کو تاہ اور برباد کیا۔اسی طرح مسجد کوتباہ کیا اور اس کے اندر سور کی قربانی کی اور اس پر ان کا قبضہ رہا لیکن آخر رومی بادشاہ عیسائی ہو گیا اس لئے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ یہودیوں کو یہ جاگیر واپس کی جائیگی پہلی جگہ تو فرمایا ہے کہ واپس کی جائیگی یعنی وہاں سے واپس ہو کر یہودیوں کو ملے گی مگر دوسری جگہ یہ نہیں فرمایا کہ واپس کی جائیگی بلکہ یہ فرمایا ہے کہ پھر ہم تم پر رحم کریں گے یعنی تمہاری وہ بے عزتی دُور ہو جائے گی۔چنانچہ جب رومی بادشاہ