سیر روحانی — Page 670
۶۷۰ عیسائی ہو گیا تو پھر وہ موسیٰ" کو بھی ماننے لگ گیا، داؤد کو بھی ماننے لگ گیا ، اسی طرح باقی انبیاء کی جس قدر تھے اُن کو بھی ماننے لگ گیا۔تھا وہ عیسی کو ماننے والا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام بھی چونکہ موسوی سلسلہ میں سے تھے ، عیسائی بادشاہت یہودی نبیوں کا بھی ادب کرتی تھی تو رات کا بھی ادب کرتی تھی بلکہ تو رات کو اپنی مقدس کتاب سمجھتی تھی گویا خدا کا رحم ہو گیا گو یہودیوں کے ہاتھ میں حکومت نہیں آئی بلکہ عیسائیوں کے ہاتھ میں چلی گئی۔مسلمانوں کے فلسطین پر قبضہ کی پیشگوئی مگر فرماتا ہے کہ اس کے بعد اِنُ عَدْتُم عُدْنَا اگر تم لوگ پھر بگڑے تو ہم تمہارے ہاتھ سے یہ بادشاہت نکال لیں گے۔اب تم میں عیسائی بھی شامل ہو گئے کیونکہ وہ بھی یہودیوں کا ایک گروہ تھے اور بتایا کہ اگر تم نے پھر کوئی شرارت کی تو پھر ہم تمہارے ہاتھ سے یہ بادشاہت نکال لیں گے۔پھر مسلمان آجائیں گے اور اُن کے قبضہ میں یہ جاگیر چلی جائیگی اور وه عِبَادِيَ الصَّلِحُونَ بنیں گے اور تمہارے لئے پھر جہنم بن جائے گا یعنی تم ہمیشہ گڑھتے ہی رہنا غرض اس جاگیر کے ساتھ یہ شرطیں لگائی گئیں کہ :- (۱)۔یہ جاگیر چھین کر ایک اور قوم کو دے دی جائینگی (۲)۔کچھ عرصہ کے بعد پھر یہ جا گیر تم کو واپس مل جائیگی۔(۳)۔کچھ عرصہ کے بعد پھر تم سے چھین لی جائیگی۔(۴)۔پھر یہ جاگیر تمہاری قوم کے پاس واپس آ جائیگی مگر تمہارے اپنے ہاتھ میں نہیں آئے گی۔موسوی سلسلہ کے ماننے والوں یعنی عیسائیوں کے ہاتھ میں آجائیگی۔(۵)۔مگر تم پھر شرارت کرو گے تو پھر اُن سے بھی چھین لی جائیگی اور ایک اور قوم کو دے دی جائے گی یعنی مسلمانوں کو۔مگر اس جگہ یہ نہیں فرمایا کہ وہ مسجد میں مسلمانوں کی نگاہ میں عبادت گاہوں کا احترام داخل ہو کر اُس کی ہتک کریں گے۔دیکھو! پہلے دو مقامات پر فرمایا کہ وہ مسجد میں جا کر اُس کی ہتک کریں گے مگر یہ تیسری دفعہ جو عذاب آنا ہے اور جس میں اُن کے ہاتھ سے یہ جاگیر لی جانی ہے اس کے متعلق یہ نہیں فرماتا کہ وہ مسجد کی ہتک کریں گے اس لئے کہ مسلمانوں کے نزدیک بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے تمام ماتحت انبیاء مقدس تھے ان کی جگہیں بھی مقدس تھیں اس لئے مسلمان اُن کی مسجدوں میں