سیر روحانی — Page 597
۵۹۷ نہیں۔گویا اُس کو ہیجڑا بنا کے رکھ دیتا ہے اور پھر اُمید رکھتا ہے کہ جا اور دشمن کو فتح کر اور پھر اُسکا نقشہ کھینچتا ہے کہ چونکہ ہم نے اُس کو جن باتوں سے روکا ہے وہ سب غیر اخلاقی ہیں اور اُس کی ذہنیت ہم نے اخلاقی بنا دی ہے اس لئے باوجود اسے غیر اخلاقی باتوں سے روکنے کے اُسکی ۵۹ بہادری میں فرق نہیں پڑا۔چنانچہ فرماتا ہے۔فَمِنْهُم مَّنْ قَضى نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّنْ يَنْتَظِرُ اُن میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے شہید ہو کر اپنے گوہر مقصود کو پالیا اور وہ لوگ بھی ہیں جو ابھی اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کب انہیں خدا تعالیٰ کے راستہ میں قربان ہونے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔دیکھو ! تم کہتے ہو کہ شرابیں ہم اس لئے پلاتے ہیں تا ہمارا سپاہی پاگل ہو جائے۔تم کہتے ہو ہم اُسے ٹوٹنے کی اس لئے اجازت دیتے ہیں کہ اُس کے اندر جوشِ جنون پیدا ہو اور رغبت پیدا ہو ہم اس لئے جھوٹی خبریں مشہور کرتے ہیں تا دشمن بدنام ہو۔مثلاً انگلستان میں مشہور کیا گیا کہ جرمن میں جو صابن جنگ عظیم میں جرمنوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے وہ سب انگریز مُردوں کی چربی سے تیار کیا گیا ہے۔بعد میں میں نے انگریزوں کی کتابیں انگریزوں کا جھوٹا پروپیگنڈہ پڑھیں تو اُن میں لکھا تھا کہ یہ جھوٹ ہم نے اِس لئے بولا کہ تا لوگوں میں جوش پیدا ہو۔اسی طرح کہا گیا کہ جرمن والے جو جہاز ڈبوتے ہیں اُن میں ڈوبنے والے سپاہیوں پر بڑی سختیاں کرتے ہیں اور انہیں مارتے ہیں اور اس خبر کو بھی خوب پھیلا یا گیا۔جب جنگ ختم ہوگئی تو انگریزی نیوی نے ایک ڈھال تحفہ کے طور پر جرمن آبدوز کشتیوں کے افسر کو بھجوائی اور لکھا کہ ہم اس یادگار میں یہ تحفہ تم کو بھجواتے ہیں کہ جنگ کے دنوں میں تم نے ہم سے نہایت شریفانہ سلوک کیا۔تو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے بعد میں انہوں نے خود مانا کہ ہم نے یہ جھوٹ اس لئے بولا تھا کہ قوم میں جرمنی کے خلاف غم و غصہ پیدا ہو۔مگر اسلام سچائی کی تعلیم دیتا ہے۔وہ فرماتا ہے لَا يَجْرِ مَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِ لُوْا اِعْدِ لُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوى۔کوئی قوم کتنی ہی دشمنی کرے تم نے اُس پر جھوٹ نہیں بولنا، تم نے اُس پر افتراء نہیں کرنا ، تم نے اُس پر الزام نہیں لگانا بلکہ سچ بولنا ہے۔ہاں زیادہ سے زیادہ تم اتنا کر سکتے ہو کہ جتنا انہوں نے کیا ہے اتنا تم بھی کر لو ، اس سے زیادہ نہیں لیکن اس صورت میں بھی اگر وہ مثلاً تمہارے ناک کان کاٹتے ہیں تمہاری عزت پر حرف لاتے ہیں تو تم مارنے کے تو جنگ میں مجاز ہو لیکن تمہیں یہ اجازت نہیں کہ مُردہ ناک کان کاٹو کیونکہ مُردہ کی زندگی