سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 900

سیر روحانی — Page 598

۵۹۸ اب ختم ہو چکی ہے۔تم زندہ سے اپنا بدلہ لے سکتے ہو مُردہ سے بدلہ لینے کی تم کو اجازت نہیں۔حضرت مالک کی غیر معمولی شجاعت اور اُن کا واقعہ شہادت پھر فرماتا ہے چونکہ ہم نے اخلاقی بنیادوں پر مسلمانوں کو قائم کر دیا ہے اسلئے مسلمان سپاہی ایسا ہے کہ فَمِنْهُم مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يُنْتَظِرُ کوئی تو ایسا ہے کہ اُس نے اپنے وعدے پورے کر دیئے ہیں اور کوئی ابھی انتظار میں ہے کہ جب بھی موقع ملے گا میں اپنا سب کچھ قربان کر کے پھینک دونگا۔چنانچہ مشہور واقعہ ہے کہ بدر کی جنگ کے بعد جب صحابہ نے آکر بیان کیا کہ لڑائی ہوئی تو ہم یوں لڑے اور ہم نے یوں بہادری دکھائی تو ایک صحابی جن کا نام مالک تھا وہ اتفا قالڑائی میں نہیں گئے تھے کیونکہ بدر کی جنگ میں جانے کا سب کو حکم نہیں تھا۔جب وہ یہ باتیں سنتے تھے تو انہیں غصہ آجاتا تھا اور وہ مجلس میں ٹہلنے لگ جاتے تھے اور کہتے تھے کیا ہے یہ لڑائی جس پر تم فخر کرتے پھرتے ہو موقع ملا تو ہم دکھا ئیں گے کہ کیطرح لڑا جاتا ہے۔اب بظاہر غرور کرنے والا آدمی بُز دل ہوا کرتا ہے مگر وہ اخلاص سے کہتے تھے۔جب اُحد کا موقع آیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو بھی لڑنے کا موقع دے دیا جب فتح ہو گئی تو چونکہ وہ بھو کے تھے کھانا انہوں نے نہیں کھایا تھا چند کھجور میں اُن کے پاس تھیں جنگ کے میدان سے پیچھے آکر انہوں نے ٹہلتے ٹہلتے کھجوریں کھانی شروع کیں۔اتنے میں پیچھے سے خالد نے آکر حملہ کیا اور اسلامی لشکر اس اچانک حملہ سے تتر بتر ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق خبر مشہور ہو گئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔حضرت عمر پیچھے آکے ایک پتھر پر بیٹھ کر رونے لگ گئے۔مالک ٹہلتے ٹہلتے جو وہاں پہنچے تو کہنے لگے عمر! تمہاری عقل ماری گئی ہے خدا نے اسلام کو فتح دی ، دشمنوں کو شکست دی اور آپ ابھی رو رہے ہیں۔عمر کہنے لگے مالک تمہیں پتہ نہیں بعد میں کیا ہوا ؟ انہوں نے کہا کیا ہوا ؟ کہنے لگے پہاڑ کے پیچھے سے یکدم دشمن نے حملہ کیا ، مسلمان پالکل غافل تھے حملہ میں لشکر بالکل تتر بتر ہو گیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔چند کھجور میں جو اُن کے پاس تھیں اُن میں سے ایک اُن کے ہاتھ میں باقی تھی وہ کھجور انہوں نے اُٹھائی اور اُٹھا کر زمین پر ماری اور مار کے کہنے لگے۔میرے اور جنت کے درمیان اس کھجور کے سوا اور کیا روک ہے۔غرض وہ کھجور انہوں نے پھینک دی اور پھر کہنے لگے عمرؓ! اگر یہ بات ہے تو پھر بھی اس میں رونے کی کونسی بات ہے جدھر ہمارا محبوب گیا اُدھر ہی ہم بھی جائیں گے۔یہ کہا اور تلوار کھینچ کر دشمن پر