سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 900

سیر روحانی — Page 596

۵۹۶ نے اسلام قبول کیا ہوتا تا کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا مورد نہ بنتا۔۵۷ اب گجا یہ احتیاط کا حکم اور کجا یہ کہ یونہی مارے چلے جاتے ہیں تا کہ سارے ملک میں خوف اور ڈر پیدا کر دیا جائے۔اسلام کی طرف سے مفتوحہ ممالک کیلئے سہولتیں مہیا کرنے کا حکم اس طرح فرماتے ہیں کہ جب مفتوحہ ممالک میں جاؤ تو ایسے احکام جاری کرو جن سے لوگوں کو آسانی ہو تکلیف نہ ہو۔اور فرمایا جب لشکر سڑکوں پر چلے تو اس طرح چلے کہ عام مسافروں کا راستہ نہ رُکے۔ایک صحابی کہتے ہیں ایک دفعہ لشکر اِس طرح نکلا کہ لوگوں کے لئے گھروں سے نکلنا اور راستہ پر چلنا مشکل ہو گیا۔اس پر آپ نے منادی کروائی کہ جس نے مکانوں کو بند کیا یا راستہ کو روکا اُس کا جہاد جہاد ہی نہیں ہوا۔۵۸ دنیوی نوبت خانوں کے ذریعہ سپاہیوں دنیا کے نوبت خانے جنونِ جنگ پیدا کرنے کیلئے اور سپاہ میں جوش پیدا کرنے کے لئے ہوتے میں جنونِ جنگ پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔اس لئے کبھی دشمن کے مظالم سنائے جاتے ہیں کبھی یہ بتایا جاتا ہے کہ گویا اس سے ملک کو سخت خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔کہیں اپنی سپاہ کی تعریف کے پل باندھے جاتے ہیں کہ وہ یوں ملک کے ملک تسخیر کرے گی۔کبھی فتح کے وقت سپاہیوں کولوٹ مار کی تلقین کی جاتی ہے تا کہ اُن کے حو صلے بڑھیں۔کبھی اُن کے ظلم پر پردہ ڈالا جاتا ہے غرض ایک دیوانگی پیدا کی جاتی ہے۔مگر اسلامی نو بت خانہ جیسا کہ میں نے اسلام جنون اور وحشت کو دُور کرتا ہے بتایا ہے وہ ایسے اعلان کرتا ہے کہ جس سے جون کم ہو اور وحشت دُور ہو۔مگر باوجود اس کے وہ ایسے اخلاقی معیاروں پر انہیں لے جاتا ہے کہ اُن کے حوصلے شیروں اور بازوں سے بڑھ جاتے تھے۔چنانچہ اسلام کہتا ہے تم کو مکان روکنے کی اجازت نہیں ، تم کو سڑکیں روکنے کی اجازت نہیں ، تم کو سختی کی اجازت نہیں، تم کو عورتوں کے مارنے کی اجازت نہیں، تم کو بچوں کے مارنے کی اجازت نہیں، تم کو بڑھوں کے مارنے کی اجازت نہیں ، تم کو عام شہریوں کو مارنے کی اجازت نہیں، تم کو بدعہدی کرنے کی اجازت نہیں ، تم کو پادریوں اور پنڈتوں اور گیانیوں کو مارنے کی اجازت نہیں تم کو درخت کاٹنے کی اجازت