سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 900

سیر روحانی — Page 568

۵۶۸ اور پھاڑ کر کھا لیا۔وہی حالت یہاں تھی۔انگریزوں نے بھی بہانہ بنا کر ٹیپو سلطان پر حملہ کر دیا۔یا بنگال کا بادشاہ سراج الدولہ تھا اُس کا کوئی قصور نہیں تھا۔انگریزی تاریخیں خود بھی مانتی ہیں کہ ایک ہندو سے جھوٹے خط لکھوائے گئے اور اُن خطوں کی بناء پر سراج الدولہ پر حملہ کر دیا گیا۔نہ بیچارے کے پاس کوئی طاقت تھی نہ حکومت تھی۔انگریزوں کے پاس ہر قسم کے سامان تھے تو ہیں بھی تھیں ، گولہ بارود بھی تھا، منظم فوج بھی تھی یونہی بہانہ بنا کے لے لیا۔پھر غدر کی لڑائی کو دیکھ لو۔مسلمان بادشاہ کی تو قلعہ سے باہر حکومت ہی نہیں اور یہ سارے ہندوستان کے بادشاہ اُس پر چڑھ کر گئے۔بھلا اُس کے پاس کونسی حکومت تھی لیکن غدر کا حال پڑھو تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ انگلستان روس کی لڑائی ہو رہی ہے اور اس کو اتنا شاندار دکھایا جاتا ہے کہ وہ مصائب انگریزوں پر پڑے اور ایسی ایسی مشکلات پیش آئیں اور انگریزوں نے وہ وہ قربانیاں کیں حالانکہ وہ بیچارہ ایک شطرنج کا بادشاہ تھا ، دو چار دن اُس کا محاصرہ رکھا اور پھر اُسے پکڑ کر لے گئے اور اس کے بچوں کو پھانسیاں دے دیں۔تو میں نے دیکھا کہ بہت کچھ اس میں مبالغہ آرائی کی جاتی تھی۔پھر میں نے دیکھا کہ باوجود اس کے کہ مد مقابل چھوٹا ہوتا تھا خلاف امید شکست مظلوم ہوتا تھا پھر بھی بعض دفعہ نتائج اُن کے خلاف نکل آتے تھے۔جیسے پولینڈ پر جرمن نے حملہ کیا اور اُن کی مدد کے لئے انگریز اور فرانس آگئے ، آخر جرمن تباہ ہو گیا۔فن لینڈ پر روس نے حملہ کیا اور انگلستان اور فرانس نے اس کو مدد دینی شروع کر دی چنانچہ باوجود اس کے کہ فوج اُس کے پاس تھوڑی تھی اُس کو اتنا سامانِ جنگ مل گیا کہ روس نے اُس سے صلح کر لی۔تو کئی دفعہ میں نے دیکھا کہ نوبت خانوں کے نتائج کچھ اور نکلتے ہیں۔ظاہر تو وہ یہ کرتے ہیں کہ ہم یوں کر دیں گے اور ڈوں کر دیں گے لیکن جب جاتے ہیں تو درمیان میں کوئی روک پیدا ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں باوجود اس کے پڑی ہونے کے وہ بھی اُس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔غرض ان حملوں میں : (۱) بسا اوقات ظلم کا پہلو ہوتا تھا۔(۲) بعض اوقات محض نمائش ہوتی تھی ، بالمقابل کوئی طاقت ہوتی ہی نہیں تھی۔ایک کمزور سی ہستی کو چُن کر دنیا پر رعب ڈالنے کے لئے ظاہر کیا جاتا تھا کہ گویا ایک بہت بڑے دشمن کی سرکوبی کے لئے تیاری کی گئی ہے۔(۳) لیکن پھر بھی نتیجہ قطعی نہ ہوتا تھا۔بعض دفعہ باوجود اس کے کہ دوسرا فریق چھوٹا اور کمزور