سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 900

سیر روحانی — Page 560

نے ابوسفیان کو دیکھا اور فرمایا۔تیرا بُرا حال ہو کیا تجھے ابھی یقین نہیں آیا کہ خدا ایک ہے۔ابوسفیان نے کہا یقین کیوں نہیں آیا۔اگر کوئی دوسرا خدا ہوتا تو ہماری مدد نہ مدد نہ کرتا ؟ آپ نے فرمایا۔تیرا بُرا حال ہو کیا تجھے ابھی یقین نہیں آیا کہ محمد اللہ کا رسول ہے۔کہنے لگا۔ابھی اس کے متعلق یقین نہیں ہوا۔حضرت عباس نے کہا۔کمبخت ! کر لو بیعت۔اس وقت تیری اور تیری قوم کی جان بچتی ہے۔کہنے لگا اچھا! کر لیتا ہوں۔وہاں تو اُس نے یونہی بیعت کر لی لیکن بعد میں جا کر سچا مسلمان ہو گیا۔خیر بیعت کر لی تو عباس کہنے لگے اب مانگ اپنی قوم کے لئے ورنہ تیری قوم ہمیشہ کیلئے تباہ ہو جائے گی۔مہاجرین کا دل اُس وقت ڈر رہا تھا۔وہ تو مکہ کے رہنے والے تھے اور سمجھتے تھے کہ ایک دفعہ مکہ کی عزت ختم ہوئی تو پھر مکہ کی عزت باقی نہیں رہے گی۔وہ با وجود اس کی کے کہ انہوں نے بڑے بڑے مظالم برداشت کئے تھے پھر بھی وہ دُعائیں کرتے تھے کہ کسی طرح صلح ہو جائے۔لیکن انصار اُن کے مقابلہ میں بڑے جوش میں تھے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔مانگو۔کہنے لگا۔يَا رَسُولَ اللهِ ! کیا آپ اپنی قوم پر رحم نہیں کریں گے۔آپ تو بڑے رحیم کریم ہیں اور پھر میں آپکا رشتہ دار ہوں ، بھائی ہوں، میرا بھی کوئی اعزاز ہونا چاہئے میں مسلمان ہوا ہوں۔آپ نے فرمایا۔اچھا جاؤ اور مکہ میں اعلان کر دو کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں گھسے گا اُسے پناہ دی جائیگی۔کہنے لگا يَا رَسُولَ اللہ ! میرا گھر ہے کتنا اور اُس میں کتنے آدمی آسکتے ہیں۔اتنا بڑا شہر ہے اس کا میرے گھر میں کہاں ٹھکا نہ ہوسکتا ہے۔آپ نے فرمایا۔اچھا جو شخص خانہ کعبہ میں چلا جائے گا اُسے امان دی جائے گی۔ابوسفیان نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! پھر بھی لوگ بچ رہیں گے آپ نے فرمایا۔اچھا جو ہتھیار پھینک دے گا اُسے بھی کچھ نہیں کہا جائے گا۔کہنے لگا يَا رَسُولَ اللهِ ! پھر بھی لوگ رہ جائیں گے۔آپ نے فرمایا۔اچھا جو اپنے گھر کے دروازے بند کر لے گا۔اُسے بھی پناہ دی جائے گی۔اُس نے کہا۔يَا رَسُولَ اللهِ ! گلیوں والے تو ہیں وہ تو بیچارے مارے جائیں گے۔آپ نے فرمایا۔بہت اچھا لا ؤ ایک جھنڈا بلال کا تیار کرو۔ابی رویہ ایک صحابی تھے۔آپ نے جب مدینہ میں مہاجرین اور انصار کو آپس میں بھائی بھائی بنایا تھا تو ابی رویحہ کو بلال کا بھائی بنایا تھا۔شاید اُس وقت بلال تھے نہیں یا کوئی کی اور مصلحت تھی بہر حال آپ نے بلال کا جھنڈا بنایا اور ابی رویحہ کو دیا اور فرمایا۔یہ بلال کا جھنڈا ہے یہ اسے لیکر چوک میں کھڑا ہو جائے اور اعلان کر دے کہ جو شخص بلال کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گا اُس کو نجات دی جائے گی۔ابو سفیان کہنے لگا۔بس اب کافی ہو گیا آب مکہ بچ جائے