سیر روحانی — Page 559
جا کر خبر دینی تھی لیکن وہ خود پکڑے گئے۔اُدھر باقی مسلمان سپاہی دوسرے آدمیوں کو بھی پکڑ لائے۔یہ چار پانچ رئیس تھے۔پکڑے ہوئے وہاں پہنچے اور رات وہاں رہے۔صبح نماز کے وقت حضرت عباس ابوسفیان کو پکڑ کر لے گئے۔جب اذان ہوئی اور نماز کے لئے لوگ کھڑے ہوئے تو اُسے ایک عجیب نظارہ نظر آیا۔یہیں جلسہ سالانہ پر دیکھ لو کہ جب ہمارے تمیں چالیس ہزار آدمی نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو کیا شاندار نظارہ ہوتا ہے۔وہاں بھی صفوں پر صفیں بنی شروع ہو گئیں اور ہر ایک آدمی نماز کے لئے کھڑا ہو گیا۔ہمارے ہاں تو پھر کچھ آدمی نماز کے وقت پکوڑے کھا رہے ہوتے ہیں مگر وہ لوگ پکے نمازی تھے۔بہر حال ابوسفیان نے جو ان کو دیکھا تو لرز گیا۔ابوسفیان بادشاہوں کے دربار میں آیا جایا کرتا تھا اور اُس کو پتہ تھا کہ جب بڑے آدمیوں کو مروا نا ہوتا تھا تو فوجیں کھڑی کی جاتی تھیں اور اُن کے سامنے اُس کی گردن کاٹی جاتی است خیال کے ماتحت اُس نے پوچھا کہ عباس ! کیا رات کو میرے متعلق کوئی نیا حکم جاری ہوا ہے؟ حضرت عباس نے کہا۔تمہارے متعلق تو کوئی نیا حکم جاری نہیں ہوا۔وہ کہنے لگا پھر یہ اتنے آدمی کھڑے کیوں ہیں؟ حضرت عباس نے کہا یہ عبادت کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اور ہمارے ہاں عبادت کا یہی طریق ہے۔تھوڑی دیر کے بعد وہ رکوع میں گئے۔کہنے لگا۔یہ چھکے کیوں ہیں؟ عباس نے کہا۔یہ عبادت ہے۔پھر سجدہ میں گئے تو کہنے لگا اب یہ کیا ہوا کہ سارے کے سارے زمین پر گر گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا دیکھتے نہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کر رہے ہیں۔بس جو کچھ وہ کرتے ہیں وہی کچھ مسلمان کرتے ہیں۔کہنے لگا عجیب طریق ہے محمد رسول اللہ مجھکتے ہیں تو وہ جھک جاتے ہیں کھڑے ہوتے ہیں تو وہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہ کہنے لگے مسلمان اسی طرح کرتے ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر حرکت کی نقل کیا کرتے ہیں۔ابوسفیان کہنے لگا میں تو قیصر کے پاس بھی گیا اور اور بادشاہوں کے پاس بھی گیا ہوں اُن کو تو میں نے اس طرح عبادت کرتے نہیں دیکھا۔انہوں نے کہا قیصر کیا چیز ہے اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیں کہ روٹی کو ہاتھ نہیں لگا نا ، پانی کو ہاتھ نہیں لگانا تو وہ بھو کے مر جائیں گے، پیا سے مر جائیں گے مگر روٹی نہیں کھائیں گے اور پانی نہیں پیئیں گے۔ابوسفیان کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست جب نماز ختم ہو چکی تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ ابوسفیان کو لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم