سیر روحانی — Page 561
۵۶۱ گا۔کہنے لگا اب مجھے اجازت دیجیئے کہ میں جاؤں۔آپ نے فرمایا جا۔۲۵ اب تو سردار خود ہی ہتھیار پھینک چکا تھا۔خبر پہنچنے یا نہ پہنچنے ابوسفیان کا مکہ میں اعلان کا سوال ہی نہیں تھا۔گھبرایا ہوا مکہ میں داخل ہوا اور یہ دو۔کہتا جاتا تھا لوگو! اپنے اپنے گھروں کے دروازے بند کر لو۔لوگو! اپنے اپنے ہتھیار پھینکو لوگو! خانہ کعبہ میں چلے جاؤ۔بلال کا جھنڈا کھڑا ہوا ہے اُس کے نیچے کھڑے ہو جانا۔اتنے میں لوگوں نے دروازے بند کرنے شروع کر دیئے اور بعض نے خانہ کعبہ میں گھسنا شروع کیا۔لوگوں نے ہتھیار باہر لالا کر پھینکنے شروع کئے۔اتنے میں اسلامی لشکر شہر میں داخل ہوا اور لوگو بلال کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔۲۲ اس واقعہ میں جو سب سے زیادہ حضرت بلال کا جھنڈا کھڑا کرنے میں حکمت عظیم الشان بات ہے وہ بلال کا جھنڈا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلال کا جھنڈا بناتے ہیں اور فرماتے ہیں جو شخص بلال کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو جائے گا اُس کو پناہ دی جائے گی حالانکہ سردار تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا ، آپ کے بعد قربانی کرنے والے ابوبکر تھے مگر ابو بکر کا بھی کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا، اُن کے بعد مسلمان ہونے والے رئیس عمرہ تھے مگر عمر کا بھی کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا، اُن کے بعد عثمان بن مقبول تھے اور آپ کی کے داماد تھے مگر عثمان کا بھی کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا ، اُن کے بعد علی تھے جو آپ کے بھائی بھی تھے اور آپ کے داماد بھی تھے مگر علی کا کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا ، پھر عبد الرحمن بن عوف وہ شخص تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آپ وہ شخص ہیں کہ جب تک آپ زندہ ہیں مسلمان قوم میں اختلاف نہیں ہو گا لیکن عبد الرحمن کا کوئی جھنڈا نہیں بنایا جاتا ، پھر عباس آپ کے چچا تھے اور بعض دفعہ وہ گستاخی بھی کر لیتے تو آپ خفا نہ ہوتے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کا بھی کوئی جھنڈا نہیں بنایا، پھر سارے رؤساء اور چوٹی کے آدمی موجود تھے ، خالد بن ولید جو ایک سردار کا بیٹا خود بڑا نامور انسان تھا موجود تھا، عمر و بن عاص ایک سردار کا بیٹا تھا اسی طرح اور بڑے بڑے سرداروں کے بیٹے تھے مگر ان میں سے کسی ایک کا بھی جھنڈا نہیں بنایا جاتا۔جھنڈا بنایا جاتا ہے تو بلال کا بنایا جاتا ہے کیوں؟ اسکی کیا وجہ تھی ؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ خانہ کعبہ پر جب حملہ ہونے لگا تھا ابو بکر دیکھ رہا تھا کہ جن کو