سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 900

سیر روحانی — Page 557

۵۵۷ ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔کیا تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ یہ کس کا لشکر ہے؟ پہلے تو اُن کا خزاعہ کی طرف خیال گیا اور انہوں نے کہا کہ شاید خزاعہ والے ہونگے جو اپنا بدلہ لینے آئے ہیں۔ابوسفیان نے کہا خُدا کا خوف کرو خزاعہ تو اس کا دسواں حصہ بھی نہیں یہ اتنی بڑی روشنی ہے اور اتنا بڑا لشکر ہے کہ خزاعہ کی اس کے مقابلہ میں کوئی حیثیت ہی نہیں۔عام طور پر فی خیمہ ایک روشنی ہوا کرتی ہے۔اس لحاظ سے دس ہزار خیمہ بن گیا مگر خزاعہ کی ساری تعداد دو چار سو ہے۔پس وہ کس طرح ہو سکتا ہے اُنکی تعداد تو اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔انہوں نے کہا فلاں قبیلہ ہو گا کہنے لگا آخر وہ کیوں آئے اور پھر یہ کہ اُن کی تعداد بھی اتنی نہیں۔غرض اسی کی طرح پانچ سات قبائل کے نام لیتے گئے کہ فلاں ہو گا ، فلاں ہوگا اور ہر بار ابوسفیان نے کہا کہ یہ غلط ہے۔آخر انہوں نے کہا۔یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا لشکر ہو گا اور کس کا ہو گا۔کہنے لگا بالکل جھوٹ۔میں تو انہیں مدینہ میں سوتا چھوڑ کر آیا ہوں اُن کو پتہ بھی نہیں وہ بڑے آرام سے بیٹھے تھے۔یہ باتیں ابھی ہو ابوسفیان اور اُس کے ساتھی اسلامی پہرہ داروں کے نرغہ میں ہی کی ہی تھیں کہ ہی رہی اسلامی لشکر کے چند سپاہی جو پہرہ پر متعین تھے وہ پہرہ دیتے ہوئے قریب پہنچ گئے اور ابوسفیان کی آواز انہوں نے سُنی اُن میں حضرت عباس بھی تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور ابوسفیان کے بڑے گہرے دوست تھے۔اُس وقت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر پر سوار تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سفر میں خچر دی تھی کہ وہ اس کو استعمال کریں۔انہوں نے آواز سنی تو کہنے لگے۔ابوسفیان ! ابوسفیان نے کہا۔عباس ! تم کہاں؟ حضرت عباس نے کہا او کمبخت ! تیرا بیڑا غرق ہو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کا لشکر لے کر آگئے ہیں۔اب شہر کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔اب تو چل اور چڑھ جا میرے پیچھے اور خدا کے نام پر اُن کی منتیں کر اور اپنی قوم کی معافی کے لئے درخواست کر ورنہ تباہی آجائے گی۔چڑھ جا میرے پیچھے۔انہوں نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور خچر کے پیچھے بٹھا لیا اور دوڑائی خچر۔اب لشکر میں جگہ جگہ پہرے ہوتے ہیں۔جہاں بھی یہ پہنچے پہریدار فوراً آگے آکر روکنے لگے۔جب انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ کی خچر ہے اور آگے حضرت عباس بیٹھے ہیں تو کہنے لگے چلو چھوڑو۔خیر وہ پہروں میں سے نکل کر چلے گئے یہاں تک کہ حضرت عمرؓ کے خیمہ کے پاس پہنچے۔