سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 900

سیر روحانی — Page 556

۵۵۶ دس ہزار کا لشکر لے کر آرہے ہیں پتہ نہیں چلتا کہ کدھر جا رہے ہیں لیکن اتنا بڑ الشکر مکہ کے سوا اور کہیں جا تا معلوم نہیں ہوتا اس لئے میں تم کو خبر دے رہا ہوں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خط پہنچا تو آپ نے حاطب کو بلوایا اور فرمایا۔یہ خط تمہارا ہے ؟ انہوں نے کہا۔ہاں میرا ہے۔آپ نے فرمایا۔تم نے یہ خط کیوں لکھا تھا۔انہوں نے کہا۔يَا رَسُولَ اللهِ ! بات اصل میں یہ ہے کہ سارے مہاجر جو آپ کے ساتھ ہیں، یہ مکہ کے رہنے والے ہیں۔میں مکہ میں باہر سے آکے بسا ہوں۔میرا کوئی رشتہ دار نہیں ، میرا بیٹا وہاں ہے، میری بیوی وہاں ہے، جس وقت اُن پر حملہ ہوا انہوں نے ہمارے جتنے رشتہ دار ہیں اُن کو مارڈالنا ہے۔سوائے اُن کے جن کے بچانے والے موجود ہو نگے۔پس چونکہ میرے بیوی بچوں کو کوئی بچانے والا نہیں اس لئے میں نے یہ خط لکھدیا۔میں جانتا ہوں کہ خدا نے آپ کی مدد کرنی ہے۔جب انہوں نے تباہ ہو جانا ہے اور خدا کہتا ہے کہ ہو جانا ہے تو وہ تباہ ہی ہو جائیں گے چاہے میں انکو ہزار خط لکھوں مگر اس طرح میرے بیوی بچے بچ جاتے تھے اور آپ کو کوئی نقصان نہیں ہو تا تھا ورنہ میں بے ایمان نہیں۔حضرت عمر کھڑے ہوئے تھے انہوں نے تلوار نکال لی کہ کمبخت ! رات دن ہم چھپاتے چلے آرہے ہیں کہ بات کسی طرح نکلے نہیں اور تو اُن کو خط لکھتا ہے۔يَارَسُولَ اللهِ! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کی گردن اُڑا دوں۔آپ نے فرمایا کہ جو کچھ کہتا ہے سچ کہتا ہے یہ مؤمن ہے اس نے صرف ڈر کے مارے یہ بات کی ہے۔بہر حال یہ رپورٹ کسی کو نہیں پہنچتی۔نوبت خانہ بجتا بھی ہے تو اُس کی آواز وہیں روک دی جاتی ہے۔ادھر سے نوبت خانہ ڈیڑھ سال پہلے بجتا ہے کہ دشمن آ گیا دشمن آ گیا۔ابوسفیان کی سراسیمگی اب جس وقت وہاں مسلمان پہنچے تو جب تک مسلمان حرم میں نہیں پہنچ گئے مکہ والوں کو خبر نہیں پہنچی۔جب وہاں پہنچے تو ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں کا مکہ والوں کی طرف سے پہرہ مقرر تھا۔گویا اب یہ صورت ہو گئی کہ جب وہاں پہنچے تو اُن کو خبر ہوگئی کہ اسلامی لشکر آ گیا ہے مگر اب اللہ تعالیٰ اس کا بھی علاج کر لیتا ہے۔آپ نے وہاں جا کر فرمایا کہ اب ہمیں ان پر ظاہر کر دینا چاہئے کہ ہم آگئے ہیں۔چنانچہ آپ نے حکم دیا کہ ہر سپاہی روٹی کے لئے علیحدہ آگ جلائے تا کہ دس ہزار روشنی ہو جائے۔چنانچہ سب خیموں کے آگے دس ہزار روشنی دکھائی دینے لگی۔ابوسفیان اور اُس کے ساتھیوں نے آگ کو روشن دیکھا تو وہ گھبرا گئے۔اتنا بڑ الشکر اُن کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا۔اسی گھبراہٹ میں