سیر روحانی — Page 467
۴۶۷ ایمانِ کامل نے لے لی تھی حضرت عمر نے جب یہ آیت پڑھی۔اِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُ نِي وَاَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكُرِى - إِنَّ السَّاعَةَ اتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيْهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى ۵۹ تو وہ بے اختیار ہو کر بولے یہ کیسا عجیب اور پاک کلام ہے۔یہ سنکر حضرت خباب جو ان سے ڈر کر چھپے بیٹھے تھے باہر نکل آئے۔حضرت عمرہ کی دار ارقم کو روانگی حضرت عمر نے جنہیں اب ایمان نے بیقرار کر دیا تھا بیتابی کے ساتھ خباب سے پوچھا مجھے جلد بتاؤ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کہاں ہیں ؟ میں اُن سے ملنا چاہتا ہوں۔خباب نے بتا دیا کہ محمد رسول اللہ فلاں جگہ ہیں مگر چونکہ حضرت عمرؓ نے ابھی تک اپنی تلوار اسی طرح کھینچ رکھی تھی جس سے یہ خطرہ محسوس ہوتا تھا کہ ان کے ارادے نیک نہیں اس لئے ان کی بہن اس خیال سے کہ خدانخواستہ ان کی نیت خراب ہی نہ ہو آگے بڑھی اور ان کے گلے میں ہاتھ ڈال کر کہنے لگی خدا کی قسم ! میں تمہیں ہر گز محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہیں جانے دوں گی جب تک تم مجھ سے اقرار نہ کرو کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی دُکھ نہیں پہنچاؤ گے۔حضرت عمر نے کہا نہیں نہیں بہن ! ایسا نہیں ہو سکتا مجھ پر اسلام کا گہرا اثر ہو چکا ہے۔یہ سنکر بہن نے انہیں چھوڑ دیا اور حضرت عمر دار ارقم کی طرف روانہ ہو گئے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن دنوں مقیم تھے۔حضرت عمر کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہونا حضرت عمر نے دروازے پر پہنچ کر دستک دی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت صحابہ کو قرآن کریم کی تعلیم دے رہے تھے۔صحابہ نے جب دروازے کی دراڑ میں سے دیکھا کہ عمر ننگی تلوار لئے دروازے میں کھڑے ہیں تو انہوں نے سمجھا آج عمر کے ارادے نیک نہیں ہیں اس لئے انہوں نے دروازہ کھولنے میں تامل کیا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دروازہ کھول دو۔حضرت حمزہ جو ابھی نئے ایمان لائے تھے جوش کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے دروازہ کھول دواگر تو عمر کسی نیک ارادہ کے ساتھ آیا ہے تو بہتر ورنہ کیا عمر کو تلوار چلانی آتی ہے ہمیں تلوار چلانی نہیں آتی۔صحابہ نے دروازہ کھولا اور حضرت عمرؓ اسی طرح نگی تلوار لئے اندر داخل ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھتے ہی فرما یا عمر ! تم کس ارادے سے