سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 900

سیر روحانی — Page 466

۴۶۶ بہن کو زخمی دیکھ کر حضرت عمرؓ کی ندامت و شرمندگی ہوں تو عرب لوگ اپنی بیویوں کو مارنا کوئی عیب نہ سمجھتے تھے مگر کسی دوسری عورت پر ہاتھ اُٹھانا وہ اپنی مردانگی کے خلاف خیال کرتے تھے حضرت عمررؓ کا اپنی بہن کو زخمی کرنا پالا رادہ نہ تھا چونکہ وہ اپنا ہاتھ اُٹھا چکے تھے اس لئے اب اُس کا رُکنا مشکل ہو گیا تھا جب انہوں نے اپنی بہن کو زخمی اور خون میں تر بتر دیکھا تو اُن کے دل میں ندامت اور شرمندگی پیدا ہوئی اور انہیں گھبراہٹ کے عالم میں اور کچھ نہ سُوجھا اپنی بہن سے کہنے لگے اچھا ان باتوں کو جانے دو یہ بتاؤ کہ تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے ؟ یہ سُن کر بہن کو بھی سخت غصہ آیا ، کہنے لگی میں تمہیں ہرگز وہ اوراق نہیں دکھاؤنگی کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ تم اُن کو ضائع کر دو گے۔حضرت عمرؓ نے کہا میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسا نہیں کرونگا بلکہ دیکھ کر تمہیں واپس دید ونگا۔بہن نے کہا تم جب تک غسل نہ کر لو تم ان اوراق کو ہاتھ نہیں لگا سکتے چنانچہ حضرت عمرؓ غسل کرنے کے لئے چلے گئے جب غسل سے فارغ ہوئے تو بہن نے قرآن کریم کے وہ اوراق نکال کر ان کے سامنے رکھ دیئے۔حضرت عمرؓ پر قرآن کریم کا معجزانہ اثر حضرت عمر کے دل میں بہن کے زخمی کرنے سے اتنی ندامت پیدا ہو چکی تھی کہ ضد اور تعصب اور عداوت کا وہ پردہ جس کی وجہ سے وہ قرآن کریم کو سننا تک گوارا نہ کر سکتے تھے اب ہٹ چکا تھا۔جب بہن نے قرآن کریم کے اوراق ان کے سامنے رکھے تو انہوں نے انہیں پڑھنا شروع کیا وہ آیات سورہ طہ کی تھیں جوں جوں وہ ان آیات کو پڑھتے جاتے ایک ایک لفظ ان کے سینے میں نقش ہوتا چلا جاتا۔پڑھتے پڑھتے حضرت عمر کی حالت پالکل بدل گئی ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے اور قرآن کریم کی آیات نے اُن کی فطری سعادت کو بیدار کری دیا قرآن کریم کا ایک ایک لفظ ان کے سینے کی گہرائیوں میں جاگزیں ہو گیا۔اب عمر وہ عمر نہیں رہا تھا جو مسلمانوں کو ان کے اسلام کی وجہ سے دُکھ دیا کرتا تھا، اب عمر وہ عمر نہیں رہا تھا جو اپنی لونڈی کو اسلام لانے کی وجہ سے ہمیشہ زدو کوب کیا کرتا تھا، اب عمر وہ عمر نہیں رہا تھا جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہ عہد کر کے نکلا تھا کہ آج میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر کے ہی واپس کو ٹو نگا ، اب عمر اپنی اس اصل حالت پر آچکا تھا جو اُس کے لئے ازل سے مقد رتھی ، اب عمر اس رنگ میں رنگین ہو چکا تھا جس میں خدا تعالیٰ اُسے رنگنا چاہتا تھا ، اب عمر کی سنگدلی کی جگہ