سیر روحانی — Page 468
۴۶۸ آئے ہو؟ حضرت عمر نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ! میں تو آپ کے خادموں میں داخل ہونے کے لئے حاضر ہو ا ہوں۔نعرہ ہائے تکبیر یہ سنگر آپ نے خوشی کے جوش میں اللهُ أَكْبَرُ کہا اور ساتھ ہی صحابہؓ نے بھی گونج اُٹھیں۔10 بڑے زور کے ساتھ اللہ اکبر کا نعرہ لگایا یہاں تک کہ مکہ کی پہاڑیاں خدائی حفاظت کا غیر معمولی نشان اب دیکھو عمر تو اس ارادہ کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے تھے کہ آج میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )۔کو مار کر ہی واپس لوٹوں گا اُس وقت جبکہ عمر اپنی تلوار سونت کر گھر سے نکلے ہو نگے مکہ والے کتنے خوش ہو نگے کہ آج عمر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کئے بغیر واپس نہ آئیگا ، مکہ کے لوگ بیتابی کے ساتھ انتظار کر رہے ہو نگے کہ کب انہیں خوشخبری ملتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے ، وہ لوگ ایڑیاں اُٹھا اُٹھا کر حضرت عمر کی راہ تک رہے ہو نگے کہ کب وہ پہنچ کر اپنی کامیابی کی اطلاع دیتے ہیں، وہ لوگ خوش ہونگے کہ آج عمر اس جھگڑے کو ختم کر کے ہی واپس آئے گا ، عمر اپنی جگہ خوش تھے اور گھر سے تلوار سونت کر نکلتے وقت کہہ رہے ہو نگے کہ میرے جیسا بہا در بھلا فیصلہ کئے بغیر کوٹ سکتا ہے؟ غرض حضرت عمرؓ اپنی جگہ خوش تھے اور مکہ والے اپنی جگہ پر خوش تھے اس بات پر کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آج ضرور قتل ہو جائینگے مگر خدا تعالی عرش پر بیٹھا ہوا اُن کی نادانی پر ہنس رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے محمد ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا ہم نے تجھ سے یہ نہیں کہا کہ وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ال خدا تعالیٰ تجھے خودلوگوں کے حملہ سے بچائے گا چنانچہ اُس نے حضرت عمرؓ کو اس طرح پکڑا کہ کوئی انسان اس طرح پکڑ نہیں سکتا۔انسان کی گرفت زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتی تھی کہ کوئی مسلمان حضرت عمرؓ کے مقابلہ میں کھڑا ہو جاتا اور اُن کو مار دیتا ، انسان کی گرفت زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتی تھی کہ حضرت عمر کی بہن یا ان کا بہنوئی اور ان کا حبشی غلام انہیں راستہ میں پکڑ لیتے اور انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ جانے دیتے، انسان کی گرفت یہ ہو سکتی تھی کہ حضرت حمزہ یا کوئی اور صحابی حضرت عمرؓ کے مقابلہ پر کھڑے ہو جاتے اور انہیں قتل کر دیتے مگر خدا تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کو اس طرح پکڑا کہ وہی عمر جو آپ کو قتل کرنے کے ارادہ سے نکلا تھا آپ کے پاس پہنچ کر خود قتل ہو گیا۔جسم کی موت بھلا کیا حقیقت رکھتی ہے اصل موت تو وہ ہوتی ہے جب کوئی