سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 900

سیر روحانی — Page 325

۳۲۵ مرضی سے بنایا ہے اور اس امر کا اقرار کیا ہے کہ آئندہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے دین کی حفاظت کا ہم ذمہ لیتے ہیں۔مینار کی چوٹی بھی اپنا وعدہ یاد دلاتی رہتی ہے اور اس کی روشنی بھی ہمیں بیدار رہنے کی تعلیم دیتی ہے پس جو کچھ انصار نے کیا ہمیں ان سے بڑھ کر نمونہ دکھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سراج منیر ہیں (۲) پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مینارہ بیضاء کہا گیا ہے اس کی مناسبت سے ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں آپ کو سِرَاجًا مُنِيرًا بھی کہا گیا ہے ان الفاظ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ دوسرے لوگ مینار بناتے ہیں تو اول مینار خود تاریک ہوتا ہے۔دوم انہیں محنت کر کے اس پر روشنی کرنی پڑتی ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سراج کی طرح تھے یعنی ان کی روشنی ذاتی تھی اور پھر وہ روشنی مستقل اور دائی تھی۔چاند کی روشنی سورج سے حاصل کر دہ ہوتی ہے لیکن سورج میں ذاتی روشنی ہوتی ہے پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔وہ مینار نہیں جس پر کوئی اور روشنی رکھے تو وہ روشن ہو۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات میں ایک چمکنے والے مینار ہیں لوگوں کو دُنیوی میناروں کے لئے بہت کچھ محنت اور تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ان کے لئے بجلی کے قمقموں یا تیل بنتی اور دیا سلائی وغیرہ کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔پھر دوسرے مینار دن کے وقت کام نہیں آتے صرف رات کے وقت ان کی روشنی سے استفادہ کیا جاتا ہے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اللہ تعالیٰ نے سِرَاجًا مُّبِيرًا رکھا ہے جس میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ وہ روشن چراغ ہے جو دن کو بھی روشنی دیتا ہے اور رات کو بھی روشنی دیتا ہے۔پھر اس کے لئے نہ تیل کی ضرورت ہے نہ بتی کی ضرورت ہے اور نہ کسی جلانے والے کی ضرورت ہے آپ ہی آپ سورج کی طرح ہر وقت روشن اور ضیا پاش رہتا ہے۔محمد رسول اللہ کی غلامی میں الہی انوار و برکات کا نزول پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے جولوگ مینار بناتے تھے وہ اس لئے بناتے تھے کہ ان کے ذریعہ وہ خدا تعالیٰ تک پہنچ جائیں مگر وہ ہمیشہ اس سے محروم رہتے تھے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی خدا سے ملے اور جنہوں نے آپ کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کو ملنا چاہا وہ بھی خدا سے ملے چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ اسی حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي