سیر روحانی — Page 324
۳۲۴ کہ ہم ڈرتے تھے کہ ہمارے مہاجر بھائیوں کا دل نہ دُکھے اگر ہم نے کہا ہم لڑنے کے لئے تیار ہیں تو ان کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ یہ ہمارے بھائیوں اور رشتہ داروں کو مارنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔پھر اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! شاید آپ کا اشارہ اس بیعت عقبہ کی طرف ہے جس میں ہم نے یہ اقرار کیا تھا کہ اگر مدینہ پر کوئی دشمن حملہ آور ہو ا تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے لیکن اگر مدینہ سے باہر جا کر لڑنا پڑا تو ہم پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! جس وقت ہم نے وہ معاہدہ کیا تھا اُس وقت ہمیں معلوم نہیں تھا کہ آپ کی کیا شان ہے يَا رَسُولَ اللهِ ! اب تو آپ کی صداقت ہم پر کھل چکی ہے اور آپ کا مقام ہم پر واضح ہو گیا ہے اب کسی معاہدہ کا کیا سوال ہے۔سامنے سمندر ہے آپ حکم دیجئے تو ہم اس میں اپنے گھوڑے ڈالنے کے لئے تیار ہیں اور اگر لڑائی ہوئی تو خدا کی قسم ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔۳۷ صحابہ کا نمونہ ہمارے لئے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے یہ وہ وفاداری تھی جو صحابہ کرام نے دکھائی یہ وہ اقرار تھا جس کو انہوں نے پورا کیا۔نمونہ سامنے نہ ہو تو انسان کہہ سکتا ہے کہ مجھ سے غلطی ہوئی لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو صحابہ نے اقرار کیا اس کو پورا کرنے کا نمونہ تمہارے سامنے موجود ہے۔ایک قوم تھی جس نے یہ اقرار کیا اور تاریخ کے صفحات اس بات پر شاہد ہیں کہ انہوں نے اپنے اقرار کو پورا کر دیا۔پس ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں پتہ نہیں کہ عہد کی کیا قیمت ہوتی ہے، ہمیں پتہ نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کس طرح حفاظت کی جاتی ہے۔ہم کو پتہ لگ چکا ہے اور انصار اور صحابہ کرام نے اپنے عمل اور اپنی قربانی اور اپنے ایثار سے اس کی ایک ایک شق کھول دی ہے ، ایک ایک شرط واضح کر دی ہے پس ہم خدا تعالیٰ کے سامنے یہ جواب نہیں دے سکتے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ اس اقرار کی کیا قیمت ہے۔اس جواب سے سوائے مجرم بننے کی کے ہم کچھ اور فائدہ حاصل نہیں کر سکتے ہمیں یا تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دین کے لئے اپنی جانیں دینی ہوگی اور یا ہمیں ذلت اور رسوائی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے سامنے ایک مجرم کی حیثیت میں کھڑا ہونا پڑے گا۔بہر حال یہ مینار ہر وقت ہمارے فرض کی طرف ہمیں توجہ دلاتا ہے جس طرح مدینہ کے لوگ خود بلا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو لے گئے تھے ہم نے بھی یہ مینارا اپنی کی