سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 900

سیر روحانی — Page 326

يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ٣٩ یعنی اے لوگو! اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو اور اس سے ملنے کے خواہشمند ہو تو اس کا ذریعہ یہ ہے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑو وہ تمہیں مل جائے گا۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے مینار ہیں جن کے ذریعہ انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے ہزاروں ہزار مثالیں اُمتِ محمدیہ میں ایسی پائی جاتی ہیں کہ لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اور آپ کی متابعت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا اور اس کے سے مشرف ہوئے اور اس کے نشانات ان کے لئے ظاہر ہوئے بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر دوسری تمام قوموں کے فاسقوں اور فاجروں کو نکال دیا جائے اور صرف ان کے نیک اور پاک بندوں کا شمار کیا جائے تب بھی ان میں خدا رسیدہ لوگوں کی اتنی مثالیں نہیں مل سکتیں جتنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں میں ہر زمانہ میں نظر آتی ہیں۔ہزاروں ہزار لوگ ہر زمانہ میں سے ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کیا اور ان کی برکات سے دوسرے لوگ بھی متمتع ہوئے۔حضرت عمرؓ سے قیصر کی درخواست حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک دفعہ قیصر کے سر میں شدید درد ہوا اور باوجود ہر قسم کے علاجوں کے اُسے آرام نہ آیا۔کسی نے اسے کہا کہ حضرت عمر کو اپنے حالات لکھ کر بھجوا دو اور ان سے تبرک کے طور پر کوئی چیز منگواؤ وہ تمہارے لئے دُعا بھی کریں گے اور تبرک بھی بھجوا دیں گے ان کی دعا سے تمہیں ضرور شفا حاصل ہو جائے گی۔اُس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا سفیر بھیجا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ یہ متکبر لوگ ہیں میرے پاس اس نے کہاں آنا تھا اب یہ دُکھ میں مبتلاء ہوا ہے تو اس نے اپنا سفیر میرے پاس بھیج دیا ہے اگر میں نے اسے کوئی اور تبرک بھیجا تو ممکن ہے وہ اسے حقیر سمجھ کر استعمال نہ کرے اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز بھجوانی چاہئے جو تبرک کا بھی کام دے اور اس کے تکبر کو بھی توڑ دے۔چنانچہ انہوں کی نے اپنی ایک پرانی ٹوپی جس پر جگہ جگہ داغ لگے ہوئے تھے اور جو میل کی وجہ سے کالی ہو چکی تھی اُسے تبرک کے طور پر بھجوا دی۔اُس نے جب یہ ٹوپی دیکھی تو اُسے بہت بُرا لگا تو اُس نے ٹوپی نہ پہنی مگر خدا تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ تمہیں برکت اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہی حاصل ہو سکتی ہے۔اسے اتنا شدید دردِ سر ہؤا کہ اس نے اپنے نوکروں سے کہا وہی ٹوپی لاؤ