سیر روحانی — Page 284
۲۸۴ اُس نے ایک کاغذ میرے سامنے رکھ دیا جس پر یہی شعر لکھا ہو ا تھا ، اس کے بعد اس نے کہا کہ آپ ایک سے دس تک کوئی ہندسہ اپنے دل میں سوچیں ، میں نے سات کا ہندسہ سوچا اور اس نے ایک کا غذ اٹھا کر مجھے دکھایا جس پر لکھا تھا کہ آپ سات کا ہندسہ سوچیں گے۔پھر کہنے لگا کہ آپ اپنی پیٹھ پر سے کپڑا اُٹھا ئیں آپ کے دائیں طرف ایک منہ ہے میں نے گرتا اُٹھایا تو وہاں منہ بھی موجود تھا۔میں نے کہا تمہاری پہلی دو چالاکیاں تو مجھے معلوم ہو گئیں ، تم یہ بتاؤ کہ تم نے یہ کس طرح پتہ لگا لیا کہ میرے جسم کے دائیں طرف ایک منہ ہے۔اس نے کہا ہماری راول قوم اس فن میں بہت مشہور ہے اور اُس نے بڑی کثرت سے انسانی جسموں کو دیکھا ہوا ہے۔ایک لمبے مشاہدہ کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ اسی فی صدی لوگوں کی کمر کے دائیں طرف کوئی نہ کوئی منہ ضرور ہوتا ہے، اگر تین چار آدمیوں کو یہ بات بتائی جائے اور تین آدمیوں کے متے نکل آئیں اور چوتھے کے نہ نکلیں تو عام طور پر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم سے کوئی حسابی غلطی ہو گئی ہو گی ، وہ ہمارے علم پر شبہ نہیں کرتے۔ان دنوں قادیان میں ایک اہلِ حدیث لیڈر آئے ہوئے تھے وہ مجھے ملنے کے لئے آئے تو اتفاقاً ان سے بھی اس بات کا ذکر آ گیا۔کہنے لگے ان لوگوں کو کوئی علم نہیں آتا۔محض ارڈ پوپوٹ ہوتے ہیں لیکن میں چاہتا ہوں کہ اس شخص کو دیکھوں ، وہ اب کی دفعہ آئے تو اسے میرے پاس ضرور بھیجوا دیں۔وہ قادیان کے قریب ہی ایک گاؤں کا رہنے والا تھا، اتفاق سے دوسرے تیسرے دن پھر آ گیا اور میں نے اسے انہی اہلِ حدیث مولوی صاحب کے پاس بھجوا دیا۔گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کے بعد وہ میرے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے یہ تو معجزہ ہے معجزہ۔اُس نے جتنی باتیں بتائیں وہ ساری کی ساری صحیح تھیں۔معلوم ہوتا ہے اسے غیب کا علم آتا ہے آپ اسے کہیں کہ کسی طرح یہ علم مجھے بھی سکھا دے۔میں نے ہنس کر کہا تم تو اہلِ حدیث ہو اور جانتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو علم غیب نہیں ، پھر یہ کیسی باتیں کرتے ہو۔پھر میں نے انہیں کہا کہ ایک دفعہ تو اس نے باتیں دریافت کر لیں ، اب اسے کہو کہ وہ مجھ سے پھر وہ دو باتیں دریافت کر کے دیکھے میں نے خود بھی اسے کہا، مگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوا۔جس چیز کا مجھ پر اثر تھا وہ صرف یہ تھی کہ اسے منے کا کس طرح پتہ لگ گیا ؟ اس کے متعلق اس نے بتایا کہ ہماری قوم کے لوگ ساری جگہ پھرتے رہتے ہیں اور وہ انڈونیشیا اور جاپان تک بھی جاتے ہیں ، انہوں نے انسانی جسموں کو کثرت کے ساتھ دیکھنے کے بعد بعض نتائج قائم کئے