سیر روحانی — Page 285
۲۸۵ ہوئے ہیں جو عمو ماستر ، اسی فی صدی صحیح نکلتے ہیں۔جیسے انشورنس والوں نے اندازے لگائے ہوئے ہیں کہ اتنے آدمی بیمہ کرائیں تو ان میں سے اتنے مرتے ہیں اور اتنے زندہ رہتے ہیں۔چونکہ ستر فی صدی لوگوں کا منہ نکل آتا ہے اس لئے تمیں فی صدی لوگ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ یہ جانتے تو سب کچھ ہیں معلوم ہوتا ہے کہ حساب میں ان سے کوئی غلطی ہو گئی ہے۔میناروں کے ذریعہ اپنے نام کو زندہ رکھنے کی خواہش (۴) مینار بنانے والوں کی ایک غرض یہ بھی ہوا کرتی تھی کہ ان میناروں کے ذریعہ سے بنانے والوں کا نام روشن رہے۔بنانے والے بنا جاتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ فلاں شخص کا تعمیر کر دہ مینار ہے۔حصولِ مقاصد میں ناکامی مگر میں نے دیکھا کہ ان میناروں سے یہ چاروں اغراض پوری طرح حاصل نہیں ہوئیں۔اول تو آسمانی روحوں کے اترنے کا کوئی ثبوت نہیں ، مصریوں نے مینار بنا دیئے ، کروڑوں کروڑ روپیہ خرچ کر دیا ، مُردوں کے ساتھ زیورات اور سامان بھی دفن کر دیئے مگر اب یورپین قومیں وہی سامان اٹھا کر اپنے ملکوں کو لے گئیں۔اور وہ کر دے جو انہوں نے وہاں دفن کئے تھے اُن کو بھی انہوں نے اپنے عجائب گھروں میں رکھا ہوا ہے۔کوئی لاش امریکہ کے عجائب گھر میں پڑی ہے اور کوئی فرانس کے عجائب گھر میں، گویا قیمتی سامان بھی ضائع ہوا اور مردوں کی بھی ہتک ہوئی۔کسی فرعون کی لاش امریکہ کو دیدی گئی، کسی کی فرانس کو دے دی گئی اور کسی کی برطانیہ کو دے دی گئی اور اس طرح ان مُردوں کی مٹی خراب ہو رہی ہے۔دوم قرآن کریم کی ابھی میں نے ایک آیت پڑھی ہے جس میں فرعون نے ہامان سے یہ کہا کہ تم ایک اونچا اور بلند مینار بناؤ تا کہ میں دیکھوں کہ موسیٰ کا خدا کہاں ہے؟ تورات سے پتہ لگتا ہے کہ رمسیس وہ فرعون تھا جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پالا اور منفتاح وہ فرعون تھا جو حضرت موسیٰ کے زمانہ میں تھا اور جو آپ کے مقابلہ میں آ کر تباہ ہو ا۔وہ بنی اسرائیل سے اینٹیں پچھوایا کرتا تھا اور اسی طرح ان پر اور بھی بہت سے مظالم کیا کرتا تھا۔قرآن کریم بتا تا ہے کہ جب اس نے ہامان سے یہ کہا کہ میرے لئے ایک اونچا سا مینار بناؤ تاکہ میں یہ دیکھوں کہ موسیٰ کا خدا کہاں ہے تو خدا تعالیٰ نے اس کی اس خواہش کو رائیگاں نہیں جانے دیا، اس نے اپنا وجود تو اسے دکھا دیا مگر مینار کی چوٹی پر نہیں بلکہ سمندر کی تہہ میں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر چھوڑ