سیر روحانی — Page 225
۲۲۵ کا علم ہوا تو میں اس خیال کے ماتحت اس داروغہ کے سامنے گیا کہ جب میں پہلے غلام ہوں تو ایک نئی مگر پہلے سے اچھی غلامی برداشت کرنے میں کیا حرج ہے مگر یہاں جس کے حوالے کیا گیا اس نے بجائے طوق اور بیٹریاں پہنانے کے پہلے طوق اور بیٹریوں کو کاٹ دیا اور کہا کہ اب ان کے قریب بھی نہ جانا۔داروند، غلاماں کا مسرت افزا پیغام میں یہ نظارہ دیکھ کر سخت حیران ہوا اور میں یہ سمجھا کہ آج انسان نے اس داروغہ غلاماں کے ذریعے پہلی دفعہ آزادی کا سانس لیا ہے مگر میں نے سوچا بیٹریاں اور زنجیریں تو کٹ گئیں ، لیکن آخر انسان غلام تو ہو ا۔غلامی کی دوسری باتیں تو ہوں گی اور جو کچھ اس کا ہے وہ لازماً اس کے آقا کا ہو جائے گا۔چنانچہ میں اب اس انتظار میں رہا کہ مجھ سے کہا جائے گا کہ لا ؤ اپنی سب چیزیں ہمارے حوالے کر دو، تم کون ہو جو یہ چیزیں اپنے پاس رکھو، مگر بجائے اس کے کہ غلاموں کا داروغہ یہ کہتا کہ لاؤ اپنی سب چیزیں میرے حوالے کر و اُس نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ اب جو تم میرے آقا کے غلام بنے ہو تو لو سُنو ! اُس نے مجھے یہ پیغام دیا ہے کہ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِینَ " اگر اچھی طرح غلامی کرو گے تو وہ تمہارا پوری طرح کفیل ہو گا اور تمہاری سب ضرورتوں کو پورا کرے گا ، میں نے کہا یہ اچھی غلامی ہے۔دنیا میں غلام تو آقا کو کما کر دیا کرتے ہیں اور یہ آقا کہتا ہے کہ ہم تمہاری سب ضرورتوں کے کفیل ہوتے ہیں۔چنانچہ دیکھ لو دنیا میں غلاموں سے مختلف قسم کے کام لئے جاتے ہیں کوئی نجاری کا کام کرتا ہے، کوئی لوہارے کا کام کرتا ہے، کوئی مزدوری کا کام کرتا ہے، کوئی درزی کا کام کرتا ہے، اسی طرح اور کئی قسم کے کام اُن سے لئے جاتے ہیں اور وہ جو کچھ کماتے ہیں اپنے آقا کے سامنے لا کر رکھ دیتے ہیں۔مگر یہاں اُلٹی بات ہوتی ہے کہ جب کوئی غلام بنتا ہے تو اسے یہ پیغام دے دیا جاتا ہے کہ چونکہ تم غلام ہو گئے ہو اس لئے تمہاری سب ضرورتوں کے ہم کفیل ہو گئے ہیں۔ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ روزی کمانے کے لئے ایک بزرگ کا دلچسپ واقعہ کوئی کام نہیں کرتے تھے اور تو کل پر گزارہ کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ انہیں جو کچھ بھیج دیتا کھا لیتے۔ایک دفعہ اُنہیں ایک اور بزرگ نے سمجھایا کہ یہ آپ ٹھیک نہیں کرتے آپ کو کوئی کام کرنا چاہئے اس طرح لوگوں پر بُرا اثر پڑتا ہے۔وہ کہنے لگے بات یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا مہمان ہوں اور مہمان اگر اپنے کھانے کا خود فکر کرے تو اس میں