سیر روحانی — Page 226
۲۲۶ میزبان کی ہتک ہوتی ہے، اس لئے میں کوئی کام نہیں کرتا وہ کہنے لگے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تین دن سے زیادہ مہمانی جائز نہیں ۲۹ اور اگر تین دن کوئی شخص مہمان بنتا ہے تو وہ سوال کرتا ہے آپ کے تین دن ہو چکے ہیں اس لئے آپ اب کام کریں۔انہوں نے کہا ہے حضرت مجھے بالکل منظور ہے مگر میں جس کے گھر کا مہمان ہوں وہ کہتا ہے اِنَّ يَوماً عِنْدَرَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ۔٣٠ تیرے رب کا ایک دن تمہارے ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے پس تین ہزار سال تو مجھے کچھ نہ کہیں۔جس دن تین ہزار سال گزر گئے میں اپنا انتظام کر لونگا ابھی تو میں خدا تعالیٰ کا مہمان ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے پاک بندوں کی الگ الگ کی مہمانیاں ہوتی ہیں اور جیسے انسان مختلف ہوتے ہیں اسی طرح اس کا سلوک بھی مختلف قسم کا ہوتا ہے مگر بہر حال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کا غلام بن جائے تو پھر وہ اُس کی ضروریات کا آپ متکفل ہو جاتا ہے۔تمام خواہشات کے پورا ہونے کی خوشخبری پھر میں نے سوچا کہ اچھا غلام بن کر ایک بات تو ضرور ہوگی کہ مجھے اپنی خواہشات کو چھوڑنا پڑے گا اور خواہشات کی قربانی بھی بڑی بھاری ہوتی ہے۔اس پر مجھے اسی غلاموں کے داروغہ نے کہا، آقا کی طرف سے ایک اور پیغام بھی آیا ہے اور وہ یہ کہ يايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ال اے میرے بندے! چونکہ اب تو ہمارا غلام بن گیا ہے اس لئے جہاں آقا ہوگا وہیں غلام رہے گا تو جا اور ہماری جنت میں رہ۔مگر اس جنت میں آکر یہ خیال نہ کرنا کہ آقا کا مال میں کس طرح استعمال کروں گا۔وَلَكُمْ فِيهَا مَاتَشْتَهِ اَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيْهَا مَاتَدَّعُونَ تمہارے دلوں میں جو بھی خواہش پیدا ہو گی وہ وہاں پوری کر دی جائے گی یعنی ادھر تمہارے دلوں میں خواہش پیدا ہوگی ، اُدھر اس کے مطابق چیز تیار ہو گی اور جو مانگو گے ملے گا۔اعزہ واقرباء کی دائمی رفاقت پھر مجھے خیال آیا کہ بہر حال غلامی کی یہ شرط تو باقی رہے گی کہ مجھے اب اپنے عزیز و اقرباء چھوڑ نے پڑیں گے۔کیونکہ جب غلام ہوا تو اُن کے ساتھ رہنے پر میرا کیا اختیار لیکن اس بارہ میں بھی داروغہ غلامان نے