سیر روحانی — Page 86
۸۶ قیوداور حد بندیاں اس پر الہی قانون نے لگائی ہیں ان کو توڑنا نہیں چاہئے اور نہ تو یہ کرنا چاہئے کہ کام کا اس قدر جوش ہو کہ دوسروں کے مفوضہ کاموں میں دخل دینے لگ جائے اور نہ یہ غفلت کرے کہ اپنے فرض کو بھی ادا نہ کرے اور نہ یہ ظلم کرے کہ دوسروں کو بھی ان کے کام سے روکے خواہ بالواسطہ یا بلا واسطہ۔قومی تباہی کے اسباب اب دیکھ لو کہ نظام انسانی کی تباہی ان تین امور سے ہی وابستہ ہے جب کوئی قوم ہلاک یا تباہ ہوتی ہے تو اس کا یا تو یہ سبب ہوتا ہے کہ ا بعض ذہین اور طباع لوگ اپنے جوش عمل سے گمراہ ہو کر دوسروں کی ذمہ داریاں اپنے اوپر لینی شروع کر دیتے ہیں یا تو غیر قوموں کی حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ دنیا پر احسان کر رہے ہیں یا خود اپنے ملکی یا قومی نظام میں اس قدر کام اپنے ذمہ لے لیتے ہیں کہ ان کا پورا کرنا ان سے ناممکن ہوتا ہے اور اس طرح ملکی یا ملتی کام تباہ ہو جاتے ہیں اور قوم یا ملک بجائے ترقی کرنے کے تنزل کی طرف چلا جاتا ہے۔بڑے بڑے فاتحین جو شہاب کی طرح چمکے شہاب کی طرح ہی غائب ہو گئے ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔انہوں نے خود تو کچھ شہرت اور عزت حاصل کر لی لیکن قومی نظام کو ایک دھکا لگا گئے اور نظامِ ارضی کی مشین میں ان کی قوم کے پرزہ کی جو جگہ تھی اس سے ہلا کر دوسری جگہ کر گئے جس سے قوم کو بھی صدمہ پہنچا اور دنیا کو بھی۔اسی طرح وہ جو شیلے قومی کارکن جو ہر مجلس پر چھا جانا چاہتے ہیں اور جوش عمل کی وجہ سے سب عہدے اپنے ہی ہاتھوں میں رکھنا چاہتے ہیں قوم کی تباہی کا موجب ہو جاتے ہیں ، کیونکہ ایک تو وہ سب کام اچھی طرح کر ہی نہیں سکتے اور دوسرے اس وجہ سے قوم میں اچھے دماغ پیدا ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے کیونکہ باقی دماغ سکھتے رہ کر کمزور ہو جاتے ہیں۔حال ہی میں ایک وسیع ہندوستانی ادارہ کے بارہ میں ایک معزز ہندوستانی نے مجھ سے کہا کہ میں بارہا اس ادارہ کے کرتا دھرتا کو کہہ چکا ہوں کہ تم اس ادارہ کو منظم کرو، سیکرٹریٹ بناؤ ، انسپکٹر مقرر کرو، تاکہ کام وسیع ہو اور کام کرنے والوں کی جماعت تیار ہو مگر وہ سنتا ہی نہیں۔یہ شکایت ان کی بجا تھی اور میں نے دیکھا ہے کہ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اس ادارہ میں کام کرنے والی کوئی نئی پود تیار نہیں ہو رہی۔ڈکٹیٹروں پر ڈیما کریسیز کو اسی وجہ سے فوقیت حاصل ہوتی ہے کہ اس میں کام کرنے والے پیدا ہوتے رہتے ہیں اور ان کے آگے بڑھنے کے لئے راستہ کھلا رہتا ہے پس جو قوم یا ملک اچھا نظام اور پائیدار نظام قائم کرنا چاہے اسے نظامِ عالم سے یہ سبق سیکھ لینا چاہئے کہ