سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 900

سیر روحانی — Page 87

AL ہر فردا اپنا کام ہی کرے دوسروں کے کام سمیٹنے کی کوشش نہ کرے ، ورنہ وہ سب کام نہ کر سکے گا اور دوسروں کے دماغ معطل ہو جائینگے۔قومی زندگی پائیدار بنانے کے لئے متواتر لائق افراد کا پیدا ہونا ضروری ہے اور لائق افراد بغیر تجربہ اور عملی کام کے پیدا نہیں ہو سکتے۔پس زیادہ کی ذہین اور قابل اشخاص کا فرض ہے کہ وہ کام کو اچھا بنانے کے شوق میں دوسروں کے لئے راستہ بند نہ کریں بلکہ دوسروں کو جو خواہ ان سے کم لائق ہوں کام کرنے کا موقع دیں، تا کہ وہ بھی تجربہ حاصل کر کے اس خلاء کو پُر کرنے کے قابل ہوں جو بڑوں کے مرنے کے بعد ضرور ہو کر رہیگا۔دوسری خرابی جو نظام ملکی یا سیاسی کو تباہ کرنے کا موجب ہوتی ہے یہ ہے کہ ہر فرد اپنے فرض کو پوری طرح ادا نہیں کر رہا ہوتا جس طرح زیادہ کام اپنے ہاتھ میں لے لینا نقصان کا موجب ہوتا ہے اسی طرح اپنے مفوضہ کام کو پورا نہ کرنا بھی تباہی کا موجب ہوتا ہے۔پس سوسائٹی یا ملک یا قوم اُسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب کہ اس کے تمام افراد میں ذمہ داری کا علم اور اُس کی ادائیگی کا احساس پیدا ہو۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اول تمام قوم کے اندر علم پیدا کیا جائے اور پھر اس علم کو عمل کی صورت میں بدلنے کی کوشش کی جائے تا کہ قوم کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کو ادا کرے جس طرح کہ نظام عالم کا ہر فر دا پنے فرض کو ادا کر رہا ہے۔تیسری خرابی قومی نظام کو تباہ کرنے والی یہ ہے کہ بعض لوگ دوسروں کو پا لواسطہ یا بلا واسطہ کام سے روکنے لگتے ہیں یعنی یا تو ظلماً ایک فرقہ قوم کو کام سے الگ کر دیتے ہیں اور صرف ایک حصہ قوم کو کام کے قابل قرار دیتے ہیں جیسے آرین نسلیں ہیں کہ قومی برتری کے خیال سے وہ صرف اپنی ہی نسل کے لوگوں کو ملک وقوم کا بوجھ اُٹھانے والا قرار دیکر دوسری نسلوں اور قوموں کے لوگوں کو کام سے بے دخل کر دیتی ہیں اور اس طرح قومی تنزل کے سامان پیدا کر دیتی ہیں۔اور یہ نہیں سمجھتیں کہ ادنی اقوام کی خرابی بھی اُلٹ کر اعلیٰ قوم پر اثر انداز ہو جاتی ہے اور اسے خراب کر دیتی ہے۔اور یہ عقیدہ کہ صرف اعلی ادنی پر اثر انداز ہوتا ہے غلط ہے ، چنانچہ نظام عالم میں سورج جو بڑا ہے وہ بھی زمین پر اثر انداز ہو رہا ہے اور چاند جو چھوٹا ہے وہ بھی زمین پر اثر انداز ہو رہا ہے۔پس چھوٹوں کو نظر انداز کرنا بالکل خلاف عقل ہے اور جو افراد یا اقوام بعض افراد یا اقوام کو چھوٹا اور ادنیٰ قرار دے کر نظر انداز کر دیتی ہیں اور قومی مشین کے پرزوں سے ان کو خارج کر دیتی ہیں وہ آخر تباہ ہو جاتی ہیں اور ادنیٰ افراد یا اقوام ان کو بھی قعر مذلت میں گرا دیتے ہیں۔اسی طرح پا لواسطہ طور پر کسی کے حق میں کمی کرنا بھی قوم کے حق میں نقصان دہ ہوتا ہے