سیر روحانی — Page 85
۸۵ سستی کی یا دوسروں کے حق ادا کرنے میں کوتاہی کی تو اس کا نقصان مجھے ہی پہنچے گا اور جب میں بظاہر دوسرے پر ظلم کر رہا ہوں گا تو درحقیقت میں اپنی ہی جان پر ظلم کر رہا ہونگا اور جب میں کسی کا حق کسی اور کو دے رہا ہوں گا تو درحقیقت اپنے ہی حق کو ضائع کر رہا ہونگا۔چوتھی بات یہ بتائی ہے کہ نظام عالم انسان کے تمدن میں ترقی کے لئے ایک بہت بڑی ہدایت ہے اگر انسان نظام عالم کو اپنا رہنما بنا کر اس کے مطابق نظام انسانی کو ڈھال لے تو وہ ہر قسم کی تکالیف سے بچ سکتا ہے اور نقصانوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔اس نظام میں ہر فرد اپنے مفوضہ کام کو بجالا رہا ہے اور دوسرے کے دائرہ میں دخل نہیں دیتا نہ ظلم کے ساتھ نہ تفسیر کے ساتھ یعنی نہ اس سے زیادہ کام لیتا ہے نہ اس کا حق کم کرتا ہے اور نہ دوسرے کے کام میں دخل دیتا ہے۔یہی اطاعت ذمہ داری کی ادائیگی کا احساس اور دوسرے کے امور میں دخل اندازی سے اجتناب ہی ایسے قوانین ہیں جن کو نظر انداز کر کے بنی نوع انسان اپنے تمدن کو تباہ اور برباد کر رہے ہیں۔نظام عالم کی کامیابی کے تین اصل اس جگہ نظام عالم کے کامل ہونے کے تین اصل بیان فرمائے ہیں۔(۱)۔کوئی فرد اپنے مفوضہ کام سے زیادہ نہیں کر رہا۔(۲)۔ہر فرد اپنے مفوضہ کام کو پوری طرح ادا کر رہا ہے۔(۳)۔کوئی فرد دوسرے فرد کو اس کے فرض کی ادائیگی سے روک نہیں رہا ، یا اس کے ادا کرنے کی قابلیت سے اسے محروم نہیں کر رہا۔غور کر کے دیکھ لو نظامِ عالم کی کامیابی کا انحصار ا نہی تین باتوں پر ہے اور انسانی نظام کی خرابی یا بے ثباتی کا سبب بھی ان تینوں یا ان میں سے کسی کا فقدان ہوتا ہے اور انہیں سے محفوظ رہنے کے لئے قرآن کریم نے نظام عالم کو دیکھنے اور اس سے سبق لینے کے لئے اس جگہ اشارہ فرمایا ہے۔یہ آیات سورۃ الرحمن کے شروع میں ہیں جہاں کہ قرآن کریم کی آمد کی غرض بیان کی کی گئی ہے۔ظاہر ہے کہ خالی ترازو کے تول اور بنوں کے درست رکھنے کا مضمون نہ تو قرآن کریم کے نزول کے اغراض سے خاص تعلق رکھتا ہے اور نہ نظام عالم سے۔پس ظاہر ہے کہ اس جگہ گیہوں اور چاولوں کے ماپ اور تول کا ذکر نہیں بلکہ انسانی اعمال کے ماپ اور تول کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسان کو اپنی سوسائٹی کے بنیادی اصول نظام عالم کے مطابق رکھنے چاہئیں اور جو