سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 836 of 900

سیر روحانی — Page 836

۹ دیوانِ عام کا نظارہ کبھی انتہائی عظیم الشان ہوا کرتا تھا جبکہ اس کو سنہری پردوں اور بیش قیمت قالینوں۔سے سجایا جاتا تھا۔اس دیوانِ عام میں تمام وزراء، راجے مہاراجے اور سفراء در بارشاہی میں شہنشاہ کے سامنے انتہائی مرعوب انداز میں کھڑے ہوا کرتے تھے۔اس کے پیچھے عظیم الشان رنگ محلی اور ممتاز محل جیسے محلات پر مشتمل زنان خانہ ہوا کرتا تھا ان میں سے رنگ محل کے عین وسط میں سنگِ مرمر کے ایک بہت بڑے واحد ٹکڑے مشتمل بنا ہوا کنول کے پھول سے مشابہ ایک فوارہ ہے جو ایک عدیم المثال خوبصورتی کا شاہکار ہے سفید سنگ مرمر کی بنی ہوئی بارہ دری جس کو دیوان خاص کہا جاتا تھا اب اپنی عظمت کا اکثر حصہ کھو چکی ہے اس کی چاندی کی بنی ہوئی چھت کے نیچے دنیا کا مشہور ترین تخت طاؤس رکھا ہوتا تھا جس میں مغلیہ سلطنت کے قیمتی ہیرے جواہرات جڑے ہوئے تھے جن کی قیمت کا اندازہ آجکل کے حساب سے سوا کروڑ پاؤنڈ سٹرلنگ سے بھی زیادہ لگایا جاتا ہے۔چھت کے نیچے یہ الفاظ کندہ کئے گئے ہیں۔اگر فردوس بر روئے زمین است ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است نادرشاہ اور احمد شاہ ابدالی ، غلام قادر ، مرہٹوں اور آخر میں انگریزوں نے جی بھر کے ان مغلیہ خزانوں کولوٹا اور بے شمار تعمیرات کو جو خوبصورتی اور عظمت کا شاہکار تھیں ہر طرح سے بر بادکیا۔تاہم سنگ مرمر کی بارہ دریاں ابھی تک ان تمام بربادیوں کے باوجود قائم ہیں۔یہ واحد قلعہ ہے جس میں موجود بعض شاہی تعمیرات مغلیہ سلطنت کی کھوئی ہوئی شان وشوکت کی ایک حد تک جھلک دکھاتی ہیں۔لال قلعہ دہلی میں تعمیر ہونے والا آخری قلعہ تھا۔قطب مینار (دہلی) اسے قطب صاحب کی لاٹ بھی کہتے ہیں اور اس کا شمار دنیا کے عجائبات میں ہوتا ہے دراصل یہ مسجد قوت الاسلام ( پرانی دہلی ) کا ایک مینار تھا جس کے سات درجے تھے اب صرف پانچ درجے ہیں۔چھٹا درجہ اُتار کر نیچے رکھ دیا گیا ساتویں کا کوئی پتہ نہیں۔پورا مینا ر سنگِ سُرخ کا بنا ہوا ہے ہر درجے میں قرآنی آیات بیلوں کی شکل میں کندہ کی گئی ہیں اس کی خوبصورتی ، بلندی، داستان بیان میں نہیں سما سکتی۔پانچوں درجوں کی بلندی دوسو اڑتیں فٹ ہے اور چھٹا درجہ جو نیچے رکھا ہوا ہے۔اس کی بلندی سترہ فٹ ہے مینار کا گھیر انیچے سے ڈیڑھ سوفٹ اور پانچویں درجے کے اوپر سے تھیں فٹ ہے۔قطب الدین ایبک نے اسے دہلی کی اسلامی فتح کی یادگار کے طور پر نیز دن میں پانچ وقت اذان