سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 837 of 900

سیر روحانی — Page 837

کی منادی کرنے کے لیے تعمیر کرایا تاہم وہ صرف ایک ہی منزل تعمیر کر اسکا تھا کہ اس کا انتقال ہو گیا بقیہ منزلیں اس کے جانشین شمس الدین التمش (۶۲۶ ۱۲۲۸/۵ء) نے تعمیر کروائیں۔فیروز الدین تغلق کے عہد میں آسمانی بجلی گرنے سے اسے نقصان پہنچا ۱۳۶۸/۵۷۷۰ء میں اس کی مرمت کرادی گئی۔سکندر لودھی کے عہد میں دوبارہ مرمت ہوئی (۹۰۹ ھ /۱۵۱۳ء)۔مغلوں کے آخری دور میں تیسری مرتبہ خستہ ہو گیا اس کی مرمتوں میں اس کی ہیئت کسی قدر بدل گئی۔پہلے ہر درجہ کے اوپر کنگورے سے بنے ہوئے تھے بعد ازاں کٹہرے بنادیئے گئے۔مینار کی تین سو اٹھہتر سیڑھیاں ہیں۔مقبرہ ہمایوں (دہلی) دہلی کی بید ایک نہایت عالی شان عمارت ہے جور میلوے سٹیشن سے تقریباً پانچ میل کے فاصلے پر بستی نظام الدین کے قریب واقع ہے کہتے ہیں کہ ہمایوں نے خود مقبرے کی جگہ تجویز کر دی تھی اس کی بیگم حمیدہ بانو عرف حاجی بیگم ( والدہ اکبر ) نے ۱۵۵۶ء میں اس کی تعمیر شروع کرائی اور ۱۵۶۵ء میں مقبرہ تیار ہوا۔اصل مقبرہ ایک وسیع باغ کے اندر تھا جس کے ارد گرد بلند فصیل تھی اور اس میں دو دروازے تھے ایک مغربی جانب دوسرا جنوبی جانب۔دونوں سنگِ سُرخ کے بنے ہوئے تھے ان میں سنگ مرمر کی پٹیاں لگی ہوئی تھیں۔اصل مقبرہ دوہرے چبوترے پر ہے اور نہایت عمدہ سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔عین وسط کے کمرے میں ہمایوں کی قبر ہے خود حمیدہ بانو بھی اسی میں دفن ہوئی پھر تیموری خاندان کے متعدد بادشاہ اور شہزادے اس میں دفن ہوتے رہے مثلاً جہاندار شاہ ، فرخ سیر، عالمگیر ثانی، دارا شکوہ، یہ مقبرہ مغلوں کے فن تعمیر کا پہلا نمونہ ہے اور اس میں بُرج پہلی مرتبہ بنائے گئے اس مقبرے کا آخری قابلِ ذکر واقعہ ہے کہ بہادر شاہ ثانی لال قلعہ سے نکل کر اسی میں جا بیٹھا تھا اور یہیں سے اسے گرفتار کر کے قیدی کی حیثیت میں لال قلعے لے گئے تھے یہیں سے شہزادے گرفتار ہوئے۔مقبرہ صفدر جنگ منصور (دہلی ) ابوالمنصور خاں صفدر جنگ ابن مرزا جعفر بیگ ایرانی۔نواب شجاع الدولہ اسی کا بیٹا تھا ۳۹ ۱۷ء سے آخر تک دربار دہلی کی تمام سرگرمیوں میں برابر شریک رہا۔سرہند میں عساکر دہلی کا مقابلہ احمد شاہ ابدالی سے ہو ا۔صفدر جنگ اس میں شریک تھا۔ابدالی کی شکست صفدر جنگ اور معین الملک کی کوششوں کا نتیجہ تھی پھر صفدر جنگ کو نواب وزیر کا عہدہ مل گیا۔غرض یہ بارہ تیرہ سال تک ملک میں بڑی قوت بنا رہا پھر اپنے صوبے کی طرف متوجہ ہو ا جس کا انتظام نائیوں کے ہاتھ میں تھا۔پاپڑ گھاٹ (لکھنو سے تین میل پر پہنچا