سیر روحانی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 835 of 900

سیر روحانی — Page 835

جیسا کہ بعد میں تعمیر ہونے والے قلعوں میں بنائی جاتی تھیں۔اس برباد شدہ قلعے کی تعمیر کا اصل مقصد سجاوٹ اور خوبصورتی سے زیادہ اس کی عسکری افادیت تھا۔ہمایوں نے اسے ” قلعہ دین پناہ کا نام دیا تھا۔اس کی فصیل اور دروازے فن تعمیر کا مثالی نمونہ ہیں۔اس کے اندر شیر منڈل اور شیر شاہی مسجد دو قدیم عمارتیں ہیں۔۱۵۵۵ء میں ہندوستان دوبارہ فتح کرنے کے بعد ہمایوں نے اسے اپنا کتب خانہ بنایا اور رصد گاہ قائم کی۔اسی شیر منڈل کی چھت سے اترتے وقت شیر شاہی مسجد سے مغرب کی اذان سنی تو تعظیماً بیٹھ گیا۔اذان کے بعد اُٹھا تو عصا پھسلا اور وہ سیڑھیوں سے گر کر شدید زخمی ہوا اور چند یوم بعد انتقال کر گیا۔۱۹۴۷ء کے بعد فسادات میں یہاں مسلمانوں کا حفاظتی کیمپ بنا تھا اب قلعے کے اندر وسیع میدان میں کئی عمارتیں بن گئی ہیں۔لال قلعہ (دہلی ) یہ بے مثال شاہی محل جسے شاہ جہاں نے بنوایا، بظاہر قلعہ نما ہے۔لال قلعہ اس لئے مشہور ہوا کہ اس کی بیرونی دیواریں سر تا پا اعلی درجے کے سنگ سُرخ کی ہیں۔نشیمن شاہی ہونے کے باعث اسے قلعہ مبارک بھی کہتے ہیں اور قلعہ شاہ جہاں بھی۔بیرونی دیوار یا فصیل کا پورا دور ڈیڑھ میل سے کم نہ ہوگا۔تین طرف خندق ہے جو پچہتر فٹ عریض اور تمیں فٹ عمیق ہے۔شاہی زمانے میں اس کے اندر پانی بھرا رہتا تھا۔انگریزوں کا دور شروع ہوا تو خندق بالکل خشک ہوگئی۔اس میں بڑے دروازے دو ہیں۔ایک لاہوری دروازہ جو مغربی فصیل کے وسط میں ہے اور اس کا رُخ چاندنی چوک کی جانب ہے۔دوسرا دہلی دروازہ جو جنوبی دیوار میں پرانی دہلی کے رُخ ہے۔قلعے کی مشرقی دیوار عین جمنا کے کنارے ہے مگر یہاں دریا اور دیوار کے درمیان ریت کا ایسائیلہ ہے جس پر دریا کا پانی چڑھتا ہی نہیں۔نیز سامنے ریتلا میدان ہے جہاں بادشاہ ہاتھیوں کی لڑائی دیکھا کرتے تھے۔۹ محرم ۱۰۴۹ھ /۲ مئی ۱۶۳۹ء کو جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب میں اس نادر روزگار عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا گیا اور تعمیر شروع ہوئی۔۲۴ ربیع الاول ۱۰۵۸ھ/ ۸۔اپریل ۱۹۴۸ء کو شاہ جہاں نے اس میں قدم رکھا۔۴ استمبر ۱۸۷۵ء کو انگریزی فوج شہر میں داخل ہوئی اور غالباً اُسی روز بہادر شاہ ثانی لال قلعہ چھوڑ کر مقبرہ ہمایوں میں چلا گیا۔۲۲ ستمبر کو اسے بطور اسیر قلعے میں لائے۔یہیں دیوانِ خاص میں اس پر مقدمہ چلا اور سزائے موت سنائی گئی جسے جلا وطنی میں تبدیل کر دیا گیا۔گویا نشیب وفراز کے مختلف واقعات کے باوصف لال قلعہ ۸۔اپریل ۱۹۴۸ء سے ۴ ستمبر ۱۸۵۷ء تک دوسو نو سال، چھ مہینے اور چھ دن نشیمن شاہی رہا۔قلعے کی دلفریب اور دیدہ زیب عمارتوں میں دیوانِ خاص، مثمن بُرج، رنگ محل، حمام ،موتی مسجد ہیں۔